خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 247

خطبات مسرور جلد 14 247 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعانہ کی ہو۔ایک بھی ایسا نہیں۔اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذاء پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے۔یعنی ناجائز دشمنیاں اور پھر دشمنی کی وجہ سے دوسرے کو ناجائز طور پر تکلیف دینا بھی اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے، اسی طرح جس طرح اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جاتا ہے۔فرمایا کہ " ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا۔" یعنی ایک جگہ وہ جدائی نہیں چاہتا اور ایک جگہ ملنا نہیں چاہتا یاوہ مقام نہیں چاہتا جو ملنے کا ہو۔فرمایا کہ " یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل۔" بنی نوع انسان جو ہیں وہ آپس میں علیحدہ ہوں، جھگڑے ہوں، فساد ہوں، ایک کا منہ اس طرف ہو اور دوسرے کا منہ اس طرف ہو، یہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا۔یہ فصل ہے۔اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو جوڑنا، کسی کو ملانا، اس کے برابر ٹھہرانا، شریک ٹھہر انا۔یہ وصل ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے لئے یہ نہیں چاہتا۔انسانوں کی ایک دوسرے سے جدائی نہیں چاہتا اور یہ چاہتا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں، محبت اور پیار سے رہیں، ایک ہو کر رہیں اور اپنے آپ کو برابر سمجھیں۔اور اپنے لئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ واحد ہے، یگانہ ہے اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔فرمایا اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے۔اس سے سینہ صاف اور انشراح صدر پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے۔اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیار نہیں کرتی اُس میں اور اُس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنیٰ درجہ کا ہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے اور ان سے محبت کرنی چاہئے کیونکہ خدا کی یہ شان ہے۔بدال را به نیکاں ببخشد کریم" کہ بدوں کو بھی نیکوں کے ساتھ خداوند کریم بخش دیتا ہے۔" پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو، تمہیں چاہئے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فَإِنَّهُمْ قَوْم لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ۔یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس بد بخت نہیں ہوتا۔یہ خلاصہ ہے ایسی تعلیم کا جو تتخلَّفُوا بِأَخْلَاقِ اللہ میں پیش کی گئی ہے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 96-97) پس یہ چند باتیں ہیں جو میں نے بیان کی ہیں اس بہت بڑے عظیم ذخیرے میں سے جو آپ نے ہمارے سامنے صحیح اسلامی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق رکھا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ