خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 245
خطبات مسرور جلد 14 245 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 تمہارے پیغام مل رہے تھے۔میں نے دعا کی ہے "مگر اصل بات یہ ہے کہ نری دعائیں کچھ نہیں کر سکتی ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی اور امر نہ ہو۔دیکھو اہل حاجت لوگوں کو کس قدر تکالیف ہوتی ہیں مگر حاکم کے ذرا کہہ دینے اور توجہ کرنے سے وہ دور ہو جاتی ہیں۔"جو بعض ضرورتمند لوگ ہوتے ہیں وہ اپنی تکلیفیں لے کے حاکم وقت کے پاس جاتے ہیں اور اس کی توجہ اور مدد سے وہ دور ہو جاتی ہیں۔" اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امر سے سب کچھ ہو تا ہے۔میں دعا کی قبولیت کو اس وقت محسوس کرتا ہوں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر اور اذن ہو۔کیونکہ اس نے اُدعُونِی تو کہا ہے مگر استَجِبْ لَكُمْ بھی ہے۔" یعنی جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں تمہاری سنوں گا۔یہ سننے میں حکم اور اذن کی شرائط ساتھ ہیں اور اس کے لئے خدا تعالیٰ کی بات کو مانا اور اس کی عبادت کرنا بھی شرط ہے۔آپ نے فرمایا کہ " یہ ضروری بات ہے کہ بندہ اپنی حالت میں ایک پاک تبدیلی کرے اور اندر ہی اندر خدا تعالیٰ سے صلح کرلے اور یہ معلوم کرے کہ وہ دنیا میں کس غرض کے لئے آیا ہے اور کہاں تک اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔جب تک انسان اللہ تعالیٰ کو سخت ناراض نہیں کرتا اس وقت تک کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتا۔لیکن اگر انسان تبدیلی کر لے تو خدا تعالیٰ پھر رجوع بر حمت کرتا ہے۔اس وقت طبیب کو بھی سوجھ جاتی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ رجوع بر حمت ہوتا ہے تو ڈاکٹر کو بھی صحیح طرح اس کی مرض کو تشخیص کرنے کی صلاحیت دے دیتا ہے، علم دے دیتا ہے۔فرمایا خدا تعالیٰ پر کوئی امر مشکل نہیں بلکہ اس کی تو شان ہے کہ إِثْمَا امْرُةٌ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (یس : 83)۔" کہ اس کا یہ حکم ہی کافی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہونے لگتی ہے۔فرمایا کہ " ایک بار میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک ڈپٹی انسپکٹر پنسل سے ناخن کا میل نکال رہا تھا جس سے اس کا ہاتھ ورم کر گیا۔آخر ڈاکٹر نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ دیا۔اس نے معمولی بات سمجھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہلاک ہو گیا فوت ہو گیا۔فرمایا کہ " اسی طرح ایک دفعہ میں نے پنسل کو ناخن سے بنایا۔دوسرے دن جب میں سیر کو گیا تو مجھے اس ڈپٹی انسپکٹر کا خیال آیا اور ساتھ ہی میر اہاتھ ورم کر گیا۔میں نے اسی وقت دعا کی اور الہام ہوا اور پھر دیکھا تو ہاتھ بالکل درست تھا اور کوئی ورم یا تکلیف نہ تھی۔غرض بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب اپنا فضل کرتا ہے تو کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی مگر اس کے لئے ضروری شرط ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی کرے۔پھر جس کو وہ دیکھتا ہے کہ یہ نافع وجود ہے تو اس کی زندگی میں ترقی دے دیتا ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ جس کو دیکھتا ہے کہ یہ وجود نافع ہے، اس سے نفع پہنچنے والا ہے، دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی زندگی میں ترقی دے دیتا ہے۔بعض استثناء بھی ہوتے ہیں، لیکن عمو نا یہ اللہ تعالیٰ کا سلوک ہے۔فرمایا کہ " ہماری کتاب میں اس کی بابت صاف لکھا ہے۔وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَبكُتُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: 18) " کہ اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔فرمایا کہ " ایسا ہی پہلی کتابوں سے پایا جاتا ہے۔حزقیل نبی کی کتاب میں بھی درج