خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد 14 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 متاثرین ہیں ان کی مدد کریں گے لیکن یہاں تو اپنی تعلیم بھول کر ان کا یہ حال ہے کہ کچھ دن پہلے دبئی سے ہی یہ بھی خبر آرہی تھی کہ ان کا جو سب سے بڑا ہوٹل ہے اس میں دنیا کا مہنگا ترین کرسمس ٹری (Christmas Tree) لگایا گیا ہے جس کی مالیت گیارہ ملین ڈالر کی تھی۔تو یہ تو اب امیر مسلمان ملکوں کی ترجیحات ہو چکی ہیں۔لیکن احمدیوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی رات عبادت میں گزار دی یا صبح جلدی جاگ کر نفل پڑھ کر نئے سال کے پہلے دن کا آغاز کیا۔بہت سی جگہوں پر باجماعت تہجد بھی پڑھی گئی لیکن اس سب کے باوجود ہم ان مسلمانوں کی نظر میں غیر مسلم ہیں اور یہ ہلڑ بازی کرنے والے، رقموں کا ضیاع کرنے والے، غیر مذاہب کی رسومات کو بڑے اہتمام سے منانے والے یہ لوگ مسلمان ہیں۔بہر حال ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں اور ہمیں کسی کی سند کی ضرورت نہیں۔ہاں اگر ہم کسی سند کے خواہشمند ہیں تو وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں حقیقی مسلمان بن کر سند لینے کی ہے اور اس کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ہم نے سال کے پہلے دن انفرادی یا اجتماعی تہجد پڑھ لی یا صدقہ دے دیایا نیکی کی کچھ اور باتیں کر لیں اور اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا حق دار بنا دیا۔بیشک یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہو سکتی ہے لیکن تب جب اس میں استقلال بھی پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ تو مستقل نیکیاں اپنے بندے سے چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ مستقل اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔نیکیاں بجالانے والا ہو۔نمازوں اور تہجد کے ساتھ دلوں میں ایک پاک انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے تب خد اتعالیٰ راضی ہوتا ہے۔کسی قسم کی ایسی نیکی جو صرف ایک دن یا دو دن کے لئے ہو وہ نیکی نہیں ہے۔پس ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کس قسم کے عمل اور رویے ہمیں اپنانے ہیں یا اپنانے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنائیں۔اس کے لئے میں نے آج زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی بعض نصائح کو لیا ہے جو آپ نے مختلف وقتوں میں اپنی جماعت کو کی ہیں تا کہ مستقل مزاجی اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرتے رہیں۔یہی باتیں ہیں جو صرف سال کے پہلے دن ہی نہیں بلکہ سال کے بارہ مہینوں اور 365 دنوں کو بابرکت کریں گی اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " اب دنیا کی حالت کو دیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یا اب دنیا میں مسلمان موجود ہیں۔کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے ؟ تو کہتا ہے الحمد للہ۔جس کا کلمہ پڑھتا ہے اس کی زندگی کا اصول تو خدا کے لئے تھا مگر یہ دنیا کے لئے جیتا۔" کہتے تو لا إله إلا الله ہیں لیکن فرمایا کہ اللہ کے بجائے دنیا کے لئے جیتا ہے" اور دنیا ہی کے لئے مرتا ہے۔اس وقت تک