خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 244

خطبات مسرور جلد 14 244 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 شہرت پسند کہے یا کچھ اور۔آپ ان کو پھر خط لکھیں کہ وہ یہاں کچھ دن اور رہ جاویں۔پس جس کام کے ساتھ اور جس کام کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا اس کو صرف ایک شخص تک محدود نہیں رکھا بلکہ سمجھا کہ اس سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس سے اسلام کی حقیقت ظاہر ہو گی تو دوسروں کے لئے بھی آپ نے یہ جواب شائع کر دیا، کسی نام و نمود کے لئے نہیں کئے تھے۔پس آپ کا ہر کام اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور مقام قائم کرنے کے لئے تھا۔بہر حال بہت ساری باتیں اس نوجوان عبد الحق سے آپ کی سیر کے دوران ہوا کرتی تھیں۔ایک دن یہی باتیں کرتے ہوئے جب سراج الدین کے بارے میں یہ سوال ہو رہا تھا تو آپ گھر کے قریب پہنچ گئے۔اس وقت حضرت اقدس نے عبد الحق صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان آرام وہی پاسکتا ہے جو بے تکلف ہو۔پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں۔پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔یہ کہہ کر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے۔تار (ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 111-112) تو ہر ایک شخص کی انفرادی طور پر بھی مہمان داری کا آپ کو بڑا خیال رہتا تھا۔کوئی بھی اگر حق کی تلاش کے لئے آیا ہے تو اس کو ایک تو صحیح طرح پیغام ملے اور دوسرے جو ظاہری آرام ہے وہ بھی اس کو پوری طرح میسر ہو۔ایک واقعہ ایک مریض کی عیادت کا بیان کرتا ہوں لیکن اس میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کے ذکر میں آجکل کے پیروں فقیروں کی طرح اپنی بڑائی بیان نہیں کی کہ میں دعا کروں گا اور میری دعائیں قبول ہوتی ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور قبولیت دعا کے فلسفے اور اپنی حالت کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے متعلق ہی بیان فرمایا۔واقعہ یوں ہے۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ " ایک قریشی صاحب کئی روز سے بیمار ہو کر دار الامان میں حضرت حکیم الامت کے علاج کے لئے آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے متعدد مرتبہ حضرت حجتہ اللہ کے حضور دعا کے لئے التجا کی۔آپ نے فرمایا " ہم دعا کریں گے۔" پھر 10 اگست کی شام کو اس نے بذریعہ حضرت حکیم الامت التماس کی کہ میں حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہوں مگر پاؤں کے متورم ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتا۔" پاؤں سو جا ہوا ہے چل نہیں سکتا۔"حضرت " مسیح موعود علیہ السلام " نے خود 11 / اگست 1902ء کو ان کے مکان پر جا کر دیکھنے کا وعدہ فرمایا۔" " چنانچہ وعدہ کے ایفاء کے لئے آپ سیر کو نکلتے ہی خدام کے حلقہ میں اس مکان پر پہنچے جہاں وہ فروکش ہوئے تھے آپ کچھ دیر تک مرض کے عام حالات دریافت فرماتے رہے ، زاں بعد بطور تبلیغ فرمایا۔" تبلیغ کا کوئی پہلو بھی آپ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اور اسلام کی حقیقی تعلیم بھی بتانا چاہتے تھے۔فرمایا کہ میں نے دعا کی ہے۔