خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 243

خطبات مسرور جلد 14 243 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 فرمایا کہ سراج الدین جو یہاں آیا تھا اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔یعنی سوال کرتا تھا۔اور چپ رہتا تھا آگے مزید سوال نہیں کرتا تھا اور یہاں آکے بھی اس نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ہر بات پہ ہاں ہاں کر تارہا اور دل میں جو شکوک تھے یا شبہات اگر پیدا ہوئے تو نیک نیتی سے ان کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مزید سوال نہیں پوچھے۔جو لکھ کے لایا تھا بس وہی پوچھتار ہایا آپ جو بیان فرماتے رہے ان پر ہاں ہاں کرتارہا۔حضرت مسیح موعود نے نوجوان کو فرمایا کہ اس نے یعنی سراج الدین نے آپ کو کچھ کہا تھا؟ اس کو آپ جانتے ہیں؟ تو عبد الحق نامی شخص نے جواب دیا کہ ہاں وہ مجھے منع کرتے تھے کہ وہاں مت جاؤ کچھ ضرورت نہیں ہے۔جب ہم نے ایک سچائی کو پالیا یہ بھی مسلمانوں سے عیسائی ہو گیا تھا۔کہنے لگا کہ جب سچائی یعنی عیسائیت کو ہم نے پالیا پھر کیا ضرورت ہے کہ اور تلاش کرتے پھریں۔اور یہ بھی انہوں نے کہا تھا کہ جب میں آیا تھا تو وہ مجھے تین میل تک چھوڑنے آئے تھے اور پسینہ آیا ہوا تھا۔اس عیسائی کو واپسی پر الوداع کہنے کے لئے تین میل تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام گئے تھے اور یہ بھی مہمان نوازی کا وہ اعلیٰ ظرف ہے جس کا اظہار آپ نے کیا۔ایڈیٹر بدر نے جو اس پر نوٹ لکھا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ سلیم الفطرت لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت اور ہمدردی پر غور کریں اور اس جوش کا اندازہ کریں جو اس کی فطرت میں کسی روح کو بچالینے کے لئے ہے۔کیا تین میل تک جانا محض ہمدردی ہی کے لئے نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تین میل تک اس عیسائی کے ساتھ جو گئے وہ ہمدردی کے لئے تھا تا کہ اس کو بچائیں۔لکھتے ہیں کہ ورنہ میاں سراج الدین سے کیا غرض تھی۔اگر فطرت سلیم ہو تو آپ کے اس جوش ہمدردی ہی سے حق کا پتا پالے۔ہمارے لئے ایسا سچا جوش رکھنے والے تجھ پر خدا کا سلام۔سلامت بر تو اے مرد سلامت۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو پسینہ آگیا تھا اس بارہ میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں اس پسینے سے اس نے یہ مراد لی کہ گویا جواب نہیں آیا۔افسوس آپ اس سے پوچھتے تو سہی کہ پھر وہ یہاں رہ کر نمازیں کیوں پڑھتا تھا۔جب وہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آیا تو نمازیں بھی پڑھا کرتا تھا اور آپ فرماتے ہیں اور کیا اس نے نہیں کہا تھا کہ میری تسلی ہو گئی۔میرے سامنے ہو تو میں اس کو حلف دے کر پوچھوں۔سامنے ہونے سے کچھ تو شرم آجاتی ہے۔بہر حال عبد الحق صاحب نے کہا۔میں نے نمازوں کا حال پوچھا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ہاں میں پڑھا کرتا تھا اور آخر میں نے کہہ دیا تھا کہ میں کسی سرد مقام پر جا کر فیصلہ کروں گا۔یہ سراج الدین نے جواب دیا تھا اور یہ بھی مسٹر سراج الدین نے کہا تھا کہ مرزا صاحب شہرت پسند ہیں۔میں نے چار سوال پوچھے تھے ان کا جواب چھاپ دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس میں تو شہرت پسندی کی کوئی بات نہیں ہے۔ہم کیوں حق کو چھپاتے۔اگر چھپاتے تو گنہ گار ٹھہرتے اور معصیت ہوتی۔خدا نے جب مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تو پھر میں حق کا اظہار کروں گا اور جو کام میرے سپر د ہو ا ہے اسے مخلوق کو پہنچاؤں گا۔اور اس بات کی مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی