خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 242

خطبات مسرور جلد 14 242 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 ہو کے مقام و مرتبہ کو صرف علمی اور عقلی رنگ میں ثابت کرنے والے نہیں تھے بلکہ اسلام کی تعلیم کا عملی اظہار بھی آپ کی تعلیم اور عمل سے ہوتا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص عبد الحق نامی نوجوان کالج کے سٹوڈنٹ تھے جو پہلے مسلمان تھے پھر عیسائی ہو گئے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا کہ انہی باتوں سے بہت سے لوگ اسلام چھوڑ گئے اور عیسائی ، و گئے۔یہ بھی ان میں سے ایک تھے جو عیسائی ہو گئے۔حق کی تلاش میں یا ویسے ہی علمی تحقیق کے لئے قادیان آئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کچھ دیر ٹھہرے۔مختلف ملاقاتوں میں آپ علیہ السلام ان کو مسائل بیان فرماتے تھے۔ایک دن انہوں نے کہا کہ ایک عیسائی کے سامنے جب آپ کا نام لیا تو اس نے آپ کو گالی دی۔اس نوجوان نے کہا۔مجھے یہ بڑا ناگوار گزرا۔اس بات کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ کس طرح آپ کے اعلیٰ اخلاق کا اظہار کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ " گالیاں دیتے ہیں اس کی تو مجھے پرواہ نہیں ہے۔بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتا ہے اور کھولتا ہوں تو گالیاں ہوتی ہیں اشتہاروں میں گالیاں دی جاتی ہیں۔"پاکستان میں آجکل بھی یہی حال ہے۔بڑے بڑے اشتہار لگتے ہیں " اور اب تو کھلے لفافوں پر گالیاں لکھ کر بھیجتے ہیں۔مگر ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اور خدا کا نور کہیں بجھ سکتا ہے ہمیشہ نبیوں، راستبازوں کے ساتھ ناشکروں نے یہی سلوک کیا ہے۔ہم جس کے نقش قدم پر آئے ہیں مسیح ناصری اس کے ساتھ کیا ہوا " کیونکہ یہ عیسائی ہو گئے تھے اس لئے مسیح کی مثال پیش کی کہ ان کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا۔گالیاں دی جاتی تھیں۔ظلم ہوا۔صلیب پر بھی چڑھایا گیا۔پھر فرمایا " اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا اب تک ناپاک طبع لوگ گالیاں دیتے ہیں۔میں تو بنی نوع انسان کا حقیقی خیر خواہ ہوں۔جو مجھے دشمن سمجھتا ہے وہ خود اپنی جان کا دشمن ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 126) جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ عبد الحق نامی شخص کئی دن وہاں رہے اور آپ کے ساتھ گفتگو چلتی رہی اور آپ ان کے مختلف سوالوں کے جواب بھی دیتے رہے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ میں آپ کو بار بار یہی کہتا ہوں کہ جب تک آپ کی سمجھ میں کوئی بات نہ آوے اسے آپ بار بار پوچھیں۔ورنہ یہ اچھا طریق نہیں ہے کہ ایک بات کو آپ سمجھیں نہیں اور کہہ دیں کہ ہاں سمجھ لیا۔اس کا نتیجہ براہوتا ہے۔تو یہ آپ کا حوصلہ تھا۔بار بار آپ کہتے تھے پوچھو۔آپ علیہ السلام کو ایک تڑپ تھی کہ لوگوں پر حق کھلے اور وہ اسے قبول کریں۔یہ نوجوان جو تھے سراج الدین عیسائی کو بھی جانتے تھے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کئے تھے اور پھر آپ نے اس کے جواب بھی دیئے جو شائع بھی ہو گئے۔تو اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود نے