خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد 14 241 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 زندہ نہیں اور وہ اس سے حضرت عیسی کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ دو ہزار برس سے زندہ چلے آتے ہیں۔نہ زمانہ کا کوئی اثر ان پر ہوا۔دوسری طرف مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ بیشک مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا اور دو ہزار برس سے اب تک اسی طرح موجود ہے۔کوئی تغیر و تبدل اس کی حالت اور صورت میں نہیں ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر گئے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل کانپ جاتا ہے جب میں ایک مسلمان مولوی کے منہ سے یہ لفظ سنتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر گئے۔زندہ نبی کو مردہ رسول قرار دیا گیا۔اس سے بڑھ کر بے حرمتی اور بے عزتی اسلام کی کیا ہو گی۔مگر یہ غلطی خود مسلمانوں کی ہے جنہوں نے قرآن شریف کے صریح خلاف ایک نئی بات پیدا کر لی۔قرآن شریف میں مسیح کی موت کا بڑی وضاحت سے ذکر کیا گیا ہے۔لیکن اصل میں اس غلطی کا ازالہ میرے ہی لئے رکھا تھا کیونکہ میر انام خدا نے حکم رکھا ہے۔اب جو اس فیصلے کے لئے آوے وہی اس غلطی کو نکالے۔دنیا نے اس کو قبول نہ کیا پر خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اس قسم کی باتوں نے دنیا کو بڑا نقصان پہنچایا ہے " جو یہ لوگ کرتے ہیں۔فرمایا کہ "مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ سب جھوٹ ظاہر ہو جاوے۔خدا تعالیٰ نے جس کو حکم کر کے بھیجا اس سے یہ باتیں مخفی نہیں رہ سکتیں۔بھلا دائی سے پیٹ چھپ سکتا ہے قرآن نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ آخری خلیفہ مسیح موعود ہو گا اور وہ آگیا ہے۔اب بھی اگر کوئی اس پر لکیر کا فقیر رہے گا جو فیج اعوج کے زمانہ کی ہے تو وہ نہ صرف خود نقصان اٹھائے گا بلکہ اسلام کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا جاوے گا۔اور حقیقت میں اس غلط اور ناپاک عقیدے نے لاکھوں آدمیوں کو مرتد کر دیا ہے۔اس اصول نے اسلام کی سخت ہتک کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین۔جب یہ مان لیا کہ مُردوں کو زندہ کرنے والا، آسمان پر جانے والا، آخری انصاف کرنے والا یسوع مسیح ہی ہے تو پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معاذ اللہ کچھ بھی نہ ہوئے۔حالانکہ ان کو رحمتہ للعالمین کہا گیا اور وہ کافۃ الناس کے لئے رسول ہو کر آئے۔خاتم النبیین وہی ہوئے۔ان لوگوں کا جنہوں نے مسلمان کہلا کر ایسے بیہودہ عقیدے رکھتے ہیں، یہ بھی مذہب ہے کہ اس وقت جو پرندے موجود ہیں ان میں کچھ مسیح کے ہیں اور کچھ خدا تعالیٰ کے۔نعوذ باللہ من ذالک میں نے ایک بار ایک موحد سے سوال کیا کہ اگر اس وقت دو جانور پیش کئے جاویں اور پوچھا جاوے کہ خدا کا کون سا ہے اور مسیح کا کونسا ہے تو اس نے جواب دیا کہ مل جل ہی گئے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 251-252) اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بعض ارشادات اور واقعات پیش کرتا ہوں جن میں آپ کی سیرت کے بعض پہلو اجاگر ہوتے ہیں اور پتا چلتا ہے کہ آپ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم