خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 240

خطبات مسرور جلد 14 240 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے کہ یہ انہوں نے کیا بنا رکھا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کو اسلام کی غیرت نہ ہوتی اور ان الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَام (آل عمران: 20)۔خدا کا کلام نہ ہوتا اور اس نے نہ فرمایا ہو تا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10)۔تو بیشک آج وہ حالت اسلام کی ہو گئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی بھی شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھادے۔چنانچہ اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 90 تا 92) پھر بعثت مسیح موعود کا اصل منشاء اور مدعا بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ : ہمارا اصل منشاء اور مدعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا ہے اور آپ کی عظمت کو قائم کرنا۔ہمارا ذ کر تو ضمنی ہے اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جذب اور افاضہ کی قوت ہے اور اسی افاضہ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 269) میں ہمارا ذ کر ہے۔" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ طاقت ہے کہ آپ فیض پہنچانے والے اور فائدہ پہنچانے والے ہیں اور آپ نے فرمایا کہ اسی فیض اور فائدے میں میر اذکر بھی آگیا۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہی ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ مقام دیا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے دائرے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے اندر سمیٹ لیا اور اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ آپ کے عاشق صادق کا ذکر بھی شامل ہو گیا۔پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آپ کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک ہزار سال کے اندھیرے زمانے کی وجہ سے جو نئی باتیں اور بدعات پیدا ہو گئی تھیں ان کی اصلاح ہو۔آپ فرماتے ہیں: " پھر میں یہ کہتا ہوں کہ خدا کی طرف سے جو آتے ہیں وہ کوئی بری بات تو کہتے ہی نہیں۔وہ تو یہی کہتے ہیں کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور مخلوق سے نیکی کرو۔نمازیں پڑھو اور جو غلطیاں مذہب میں پڑ گئی ہوئی ہیں انہیں نکالتے ہیں۔چنانچہ اس وقت جو میں آیا ہوں تو میں بھی ان غلطیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں جو فیج اعوج کے زمانے میں پید اہو گئی ہیں۔ایک اندھیر ازمانہ جو ایک مسلمانوں میں آیا اس دور میں پید اہو گئی تھیں۔"سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو خاک میں ملا دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور اہم اور اعلیٰ توحید کو مشکوک کیا گیا ہے۔ایک طرف تو عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع زندہ ہے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم