خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 239

خطبات مسرور جلد 14 239 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 جو ہیں ان کو دیکھو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا وہ " فرمایا کہ " یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کر تو تیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنالو۔بغدادی نماز، معکوس نماز وغیر ہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔" بعض مسلمان طبقوں نے اور فرقوں میں فرمایا کیا قرآن شریف یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتا لگتا ہے۔اور ایسا ہی " یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئاً الله " کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے آنحضرت کے وقت تو شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا وجود بھی نہ تھا۔پھر یہ کس نے بتایا تھا؟ شرم کرو۔کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے ؟ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کو ما ن کر اور ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبیین کی مہر کو توڑا ہے اصل اور سچی بات یہی ہے کہ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کے طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے تو پھر میرے آنے ہی کی کیا ضرورت ہوتی۔تمہاری ان بد عتو ں اور نئی نبوتوں نے ہی اللہ تعالیٰ کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جو ان جھوٹی نبوتوں کے بُت کو توڑ کر نیست و نابود کرے۔پس اسی کام کے لیے خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ گدی نشینوں کو سجدہ کرنا یا ان کے مکانات کا طواف کرنا یہ تو بالکل معمولی اور عام باتیں ہیں۔غرض اللہ تعالی نے اس جماعت کو اسی لیے قائم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور عزت کو دوبارہ قائم کریں۔" فرمایا کہ " ایک شخص جو کسی کا عاشق کہلاتا ہے۔اگر اس جیسے ہزاروں اور بھی ہوں تو اس کے عشق و محبت کی خصوصیت کیا رہے۔" یعنی ایک شخص سے عشق ہے اگر اس جیسے اور ہزاروں پید اہو جائیں جس سے تم عشق کرنے لگ جاتے ہو تو پھر جس سے عشق ہے اس کی خصوصیت یا انفرادیت کیار ہی تو فرمایا کہ " تو پھر اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا ہیں جیسا کہ یہ دعوی کرتے ہیں تو یہ کیا بات ہے کہ ہزاروں خانقاہوں اور مزاروں کی پرستش کرتے ہیں۔" فرمایا کہ " مدینہ طیبہ تو جاتے ہیں مگر اجمیر اور دوسری خانقاہوں پر ننگے سر اور ننگے پاؤ کی جاتے ہیں۔پاک پٹن کی کھڑکی میں سے گزر جانا ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔" یہ پاکستان اور ہندوستان میں جگہیں ہیں جہاں بزرگ پیدا ہوئے ان کی قبروں کے پوجنے والے یہ لوگ ہیں یا وہاں جاتے ہیں فرمایا کہ "پاکپٹن کی کھڑکی میں سے گزر جانا ہی نجات کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔"کسی عمل کی ضرورت نہیں ہے۔صرف اس دروازے میں سے گزر جاؤ، کھڑکی میں سے گزر جاؤ تو تمہاری نجات ہوگئی۔فرمایا کسی نے کوئی جھنڈا کھڑا کر رکھا ہے کسی نے کوئی اور صورت اختیار کر رکھی ہے۔ان لوگوں کے عرسوں اور میلوں کو دیکھ کر ایک نیچے