خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 238
خطبات مسرور جلد 14 238 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2016 چاہئے۔اس موجودہ مخالفت سے بھی میڈیا کے ذریعہ جماعت کا بڑا وسیع تعارف ہوا ہے جو کہ شاید پہلے ہم اتنے تھوڑے عرصے میں نہ کر سکتے۔یہاں بھی اس ملک میں بھی اس طرف بڑی توجہ پیدا ہوئی ہے اور پھر یہ بھی کہ بعض احمدی نوجوان جو مذہب میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے ، جماعت کے ساتھ تو بعضوں کا اتنا اٹھنا بیٹھنا نہیں تھا، یا آنا جانا نہیں تھا۔یا کبھی عید پہ آگئے یا ڈور سے فاصلہ رکھا، لیکن اس میڈیا کے ذریعہ سے انہیں بھی پتا چل گیا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا کس طرح حق ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے مقام کو کس طرح قائم کر کے دکھایا اور ہماری کس طرح رہنمائی فرمائی اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہی بعض ارشادات پیش کر تا ہوں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "یقیناً یا درکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں بن سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کرے۔جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہو تا" یعنی یہ جو نئی نئی باتیں اور مختلف قسم کے ذکر اور مختلف قسم کی بدعات ان لوگوں نے مذہب میں شامل کر لی ہیں ان سے جب تک علیحدہ نہیں ہو تا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شامل نہیں کیں بلکہ مختلف علماء اور پیروں نے شامل کی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ جب تک ان سے الگ نہیں ہو تا " اور اپنے قول اور فعل سے " ہر شخص اپنے قول اور فعل سے " آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا، کچھ نہیں۔" پس یہ صرف زبانی باتیں نہیں بلکہ عملی طور پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے کی ضرورت ہے۔اور اگر وہ نہیں مانتا تو آپ فرماتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ سعدی نے کیا اچھا کہا ہے کہ بزہد و ورع کوش و صدق وصفا ولیکن میفزائے ہر مصطفی " یعنی زہد و تقویٰ اور صدق وصفا کے لئے ضرور کوشش کرو مگر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق سے تجاوز نہ کرو۔آپ فرماتے ہیں کہ : " ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جائے جو ابد الآباد کے لئے خدا تعالیٰ نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے جو ان لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں۔" یہ نئی نئی بدعتیں پیدا کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے یہ ہٹے ہوئے ہیں۔اصل میں تو یہ نبوت کی مہر کو توڑنے والے ہیں۔فرمایا ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو " یعنی پیروں کی گدیاں