خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 1

خطبات مسرور جلد 14 1 1 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2016ء بمطابق یکم / صلح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور یہ جمعتہ المبارک کے بابرکت دن سے شروع ہو رہا ہے۔حسب روایت نئے سال کے شروع ہونے پر ہم ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔مجھے بھی نئے سال کے مبارکباد کے پیغام احباب جماعت کی طرف سے موصول ہو رہے ہیں۔آپ بھی ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہوں گے۔مغرب میں یا ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک میں نئے سال کی رات ، ساری رات ہاہو ، شراب نوشی ہلڑ بازی اور پٹانے اور پھلجڑیاں جسے فائر ورکس (Fireworks) کہتے ہیں، سے نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے بلکہ اب مسلمان ممالک میں بھی نئے سال کا اسی طرح استقبال کیا جاتا ہے۔چنانچہ کل دبئی میں بھی اسی طرح کے فائر ور کس کی خبریں آرہی تھیں۔جہاں یہ سب تماشے دکھا رہے تھے ، وہیں اس کے ساتھ ہی ایک 63 منزلہ عمارت کو لگی ہوئی آگ کے نظارے بھی دکھائے جارہے تھے جو راکھ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔لیکن ٹی وی پر بار بار اعلان ہو رہا تھا کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔اس عمارت میں یہ آگ لگی ہے تو لگی رہے۔تباہی ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔ہم تو اس جگہ کے سامنے اس کے قریب ہی اپنے پروگرام کے مطابق ھلجڑیاں چھوڑیں گے اور تماشے کریں گے۔نئے سال کا آغاز کیسے کریں ویسے تو اس وقت اکثر مسلمان ملکوں کی حالت بری ہے لیکن بہر حال یہ ایک اظہار ہے۔ان ملکوں سے دنیاداری کے اظہار ہو رہے ہیں جن کے پاس پیسہ ہے۔اگر آگ وہاں نہ بھی لگی ہوتی تو اس حالت کا یہ تقاضا تھا کہ مسلمان امیر ملک یہ اعلان کرتے کہ ہم ان فضول چیزوں میں پیسہ برباد کرنے کی بجائے جو بہت سارے مسلمان