خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 234
خطبات مسرور جلد 14 234 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 لوگ قادیان جانے کے ارادے سے اترتے تو وہ انہیں کہتے کہ وہاں جا کر کیا لو گے۔وہاں گئے تو ایمان خراب ہو جائے گا۔اور کئی لوگ انہیں عالم سمجھ کر واپس چلے جاتے اور خیال کرتے کہ مولوی محمد حسین صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ سچ ہی ہو گا۔(ماخوذ از الفضل 24 جنوری 1943 صفحہ 3 جلد 1 3 شماره 21) تو یہ سب کچھ مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے تھا۔انہوں نے عوام کو بھی اس حد تک بھر کا دیا تھا کہ وہ ٹنڈا بھی بیچارہ نعرے لگا رہا تھا۔علماء کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو مخالفت ہے یہ سب کچھ ان کی جہالت اور ذاتی مفادات کے لئے تھی اور آج تک یہ علماء جو ہیں لوگوں کو بھڑکاتے ہیں۔لیکن لوگوں کو وہ مذہب کے نام پر اکسا کر اپنے مقصد پورے کر رہے تھے حالانکہ جس بات کو مخالفت کا ذریعہ بنایا جارہاتھا یا بنایا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے ہی اس بات کو قائم کرنے کے لئے تھے یعنی اسلام کی حقیقی تعلیم بتانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت کو قائم کرنا۔آپ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور غلام صادق تھے۔آپ تو آئے ہی اس لئے تھے کہ دنیا کو بتائیں کہ اب دنیا کی نجات اس آخری نبی اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی ہے لیکن ان نام نہاد علماء کی یہ بد قسمتی ہے کہ بجائے اس عاشق رسول کے ساتھ مجڑنے کے ، اس کی بات ماننے کے ، وہ اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ ختم نبوت کے منکر ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رتبے کو بڑا سمجھتے ہیں۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل اور تعلیم کا ان باتوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔آپ علیہ السلام نے ہر مذہب والے کو چیلنج دیا کہ اب راہ نجات صرف اسلام کے ماننے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہے۔بہر حال یہ علماء کوشش کرتے رہے اور جماعت بڑھتی رہی۔اب بھی یہ کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کی جماعت نے بڑھنا ہے اور بڑھ رہی ہے اور بڑھتی رہے گی۔انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اپنے اندر وہ حقیقی تبدیلی پیدا کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم میں چاہتے ہیں اور حقیقی مسلمانوں کا نمونہ بنیں۔اپنے خیالات اور سوچوں میں بھی روشنی پیدا کر یں اور اپنے دلوں کو بھی تقویٰ سے بھریں۔آج بھی جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکر مہ امۃ الحفیظ رحمن صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب سابق امیر ضلع ساہیوال کا ہے۔15 اپریل 2016ء کو ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔آپ حضرت میں عظیم اللہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو اور حضرت شیخ حسین بخش صاحب