خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 233

خطبات مسرور جلد 14 233 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 اصرار پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔مختلف بادشاہوں کے حالات تصویروں کے ذریعہ دکھائے گئے تھے جن میں بعض کی موتوں اور بعض کی بیماریوں وغیرہ کا نقشہ کھینچا گیا تھا۔پس فرمایا ایک تو یہ واقعہ مجھے یاد ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حامی بھی اس لئے بھری اور صرف اس لئے لے کر گئے کہ بہت سے لوگوں نے اس کی تعریف کی تھی کہ یہ ایک علمی اور تاریخی چیز ہے۔اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔صرف بچے کی ضد کو دیکھ کر نہیں چلے گئے تھے۔اگر آپ سمجھتے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے تو بیشک بچہ ضد کر تا لیکن نہ جاتے۔پس ایک علمی چیز تھی اس لئے آپ بچے کو ساتھ لے کے دیکھنے کے لئے چلے گئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دوسرا واقعہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور کے اندر کسی نے دعوت کی اور آپ اس میں شامل ہونے کے لئے تشریف لے گئے۔کچھ اثر میرے دل پر بھی ہے کہ دعوت نہیں تھی بلکہ مفتی محمد صادق صاحب یا ان کا کوئی بچہ بیمار تھا اور آپ اسے دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔بہر حال شہر کے اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واپس آرہے تھے کہ سنہری مسجد کی سیڑھیوں کے پاس میں نے ایک بڑا ہجوم دیکھا جو گالیاں دے رہا تھا اور ایک شخص ان کے درمیان کھڑا تھا۔ممکن ہے وہ کوئی مولوی ہو اور جیسے مولویوں کی عادت ہوتی ہے وہ شاید اپنی طرف سے بے موقع چیلنج دے رہا ہو۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گاڑی پاس سے گزری تو ہجوم کو دیکھ کر میں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی میلہ ہے۔چنانچہ میں نے نظارہ دیکھنے کے لئے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا۔اس وقت کا یہ واقعہ آج تک مجھے نہیں بھولا کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص جس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور جس پر ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، وہ بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر کہتا جا رہا تھا کہ مرزا دوڑ گیا، مرزا دوڑ گیا۔یہ واقعہ ایک اور حوالے سے میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن یہاں فرماتے ہیں کہ دیکھو ایک شخص زخمی ہے اس کے ہاتھ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں مگر وہ مخالفت کے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے ٹنڈے ہاتھ سے ہی نعوذ باللہ احمدیت کو ختم کر دوں گا یا احمدیت کو دفن کر آؤں گا۔یہ کیسی خطرناک دشمنی ہے جو لوگوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے اور کس کس طرح انہوں نے زور لگایا کہ لوگ قادیان میں نہ آئیں اور احمدیت کو قبول نہ کریں۔ایسے کئی لوگ احمدیوں میں موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں قادیان آنے کے ارادے سے بٹالے تک آئے مگر پھر ان کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے واپس کر دیا۔چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری بھی اسی لئے شروع میں احمدیت قبول کرنے سے محروم رہ گئے۔جب وہ بٹالہ میں آئے تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کو ورغلا کر واپس کر دیا اور یہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا روزانہ مشغلہ رہتا تھا۔وہ ہر روز ریلوے سٹیشن پر جا پہنچتے اور جب بعض