خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد 14 232 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 ایک قسم کا ضیاع ہے مگر اس میں وقتی فائدہ بھی ہے گو ایسا نمایاں نہیں۔مگر اس سے بچوں کا دل خوش ہو جاتا تھا اور بچوں کے جذبات کو دبانے سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچاؤ ہو جاتا تھا۔مگر آپ نے ساری جماعت کو آتش بازی چلانے کا حکم نہیں دیا۔(ماخوذ از رپورٹ مجلس مشاورت 7 تا 9 اپریل 1939ء صفحہ 74-75) آپ نے جماعت کو یہ نہیں کہا کہ آتش بازیاں کیا کرو۔اگر بچے کبھی کبھی کر لیں تو کوئی حرج نہیں اور اس نیت سے بھی کیا جائے کہ فضا بھی صاف ہو گی تو دونوں چیزیں مل جاتی ہیں۔بچے بھی خوش ہو جاتے ہیں اور فضا بھی صاف ہو جاتی ہے۔بچے اگر تھوڑی سی تفریح کر لیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ان کے جذبات کو بالکل دبایا نہ جائے۔بچوں میں یہ احساس بھی رہے کہ ان کی جو کھیل کود کی عمر ہے اس میں اسلام ان کے جائز مطالبات کو رڈ نہیں کرتا۔مثلاً چراغاں ہے، آتش بازی ہے یہ باتیں جہاں انہیں ملک کی مجموعی خوشی میں شامل کرتی ہیں وہاں ان سے ملک سے ایک تعلق کا اظہار بھی ہوتا ہے اور بچوں کی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔پس موقع محل کے لحاظ سے اور اعتدال میں رہتے ہوئے کوئی تقریب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ بچوں پر بچپن سے ہی واضح کر دینا چاہئے کہ اسلامی تعلیم کے دائرے اور ملکی قانون کے دائرے کے اندر رہ کر ہی ہم یہ ساری باتیں کرتے ہیں اور کریں گے۔حضرت مصلح موعود اپنے بچپن کے دو واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ یادرہتا ہے میں چھوٹا بچہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ملتان تشریف لے گئے۔میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔میری عمر اس وقت سات آٹھ سال کی تھی۔اس سفر کے صرف دو واقعات مجھے یاد ہیں۔آپؐ فرماتے ہیں یوں تو بعض واقعات مجھے اس وقت کے بھی یاد ہیں جب میری عمر صرف دو سال کی تھی بلکہ ایک دوست نے ایک واقعہ کی طرف یاد دہانی کرائی اور مجھے وہ یاد آ گیا اس وقت میری عمر صرف ایک سال تھی۔پس آپ فرماتے ہیں کہ مجھے چھوٹی عمر کے بھی بعض واقعات یاد ہیں لیکن اس سفر کی صرف دو باتیں میرے ذہن میں ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ واپسی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور ٹھہرے۔وہاں ان دنوں مومی تصویریں دکھائی جارہی تھیں یعنی موم سے تصویریں بنائی جاتی تھیں یا مجسمے سے بنائے جاتے تھے جن سے مختلف بادشاہوں اور ان کے درباروں کے حالات بتائے جاتے تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش و بیئر ہاؤس جو اُن دنوں بمبئی ہاؤس کہلاتا تھا انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ یہ ایک علمی چیز ہے۔ایسی معلوماتی چیز ہے کہ تاریخ کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔آپ اسے دیکھنے کے لئے تشریف لے چلیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انکار کر دیا۔اس کے بعد انہوں نے مجھ پر زور دینا شروع کر دیا کہ میں چل کر وہ مومی مجسمے دیکھوں۔میں چونکہ بچہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے پڑ گیا کہ مجھے یہ مجسمے دکھائے جائیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے