خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد 14 231 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے مکان پر بھی، مسجد میں بھی اور مدرسے پر بھی چراغ جلائے گئے اور میر محمد اسحق صاحب نے بھی اس کی شہادت دی ہے۔اس لئے خالی چراغاں کی مخالفت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔بعض لوگ کہتے ہیں جی چراغاں غلط چیز ہے۔ایسی کوئی بات نہیں۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میرا عقیدہ ہے کہ حکم و عدل ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنی نص کے خلاف کوئی بات نہ کرتے تھے اور چراغاں آپ سے ثابت ہے۔اس کے متعلق گواہیاں بھی موجود ہیں اور الحکم اخبار میں بھی یہ درج ہے۔اس لئے خاص چراغاں کے متعلق کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ کیوں کیا جائے اور کس لئے نہ کیا جائے اور کب کیا جائے۔فضول خرچی ہے یا فلاں فلاں باتیں ہیں۔بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رنگ میں جو خوشی کا اظہار کیا وہ اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے جیسا کہ مومن کی ہر بات اپنے اندر حکمت رکھتی ہے۔چراغاں خصوصاً جب وسیع پیمانے پر کیا جائے اور ہر گھر میں کرناضروری قرار دیا جائے اس پر اتنازیادہ خرچہ آجاتا ہے کہ اس کے مقابلے میں اس کا کوئی حقیقی فائدہ نظر نہیں آتا۔ہاں جہاں اس کی ملکی اور سیاسی ضرورت ہو یا جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہو وہاں اگر کیا جائے تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت میر محمد اسحق صاحب نے بتایا کہ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر کی طرف سے مسجد میں زیادہ روشنی کا انتظام کیا گیا تو میر صاحب نے اس کی مثال دی کہ مسجد میں ضرورت سے زیادہ روشنی کا اہتمام کیا گیا تھا اور آپ فرماتے ہیں کہ مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ وہاں قرآن شریف پڑھتے ہیں یا اور دینی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔پس اگر حضرت عمرؓ نے مسجد میں زیادہ روشنی کا انتظام کیا تو اس میں حکمت تھی۔ورنہ جہاں تک ہم دیکھتے ہیں اسلام میں خوشیاں ایسے رنگ میں منائی جاتی ہیں کہ بنی نوع انسان کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔مثلاً عید ہے اس میں قربانی کرنے سے غریبوں کو گوشت ملتا ہے۔عید الفطر پر فطرانہ سے غریبوں کو مدد دی جاتی ہے۔تو اسلام میں جہاں بھی خوشی منانے کا حکم دیا ہے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے ایسے رنگ میں منایا جائے کہ ملک اور بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے لیکن چراغاں کی صورت میں کوئی ایسا فائدہ نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چراغاں کرایا تو وہ ایک سیاسی مصلحت پر مبنی تھا۔اور اسی طرح بعض اوقات آپ ہمیں آتش بازی بھی لے دیا کرتے تھے تاکہ بچوں کا دل خوش ہو اور فرمایا کرتے تھے کہ گندھک کے جلنے سے جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔صرف بچوں کا دل خوش کرنے کے لئے نہیں بلکہ آتش بازی میں گندھک ہوتی ہے اس کے جلنے سے فضاصاف ہوتی ہے۔چنانچہ آپ نے کئی دفعہ ہمیں انار اور پھلجھڑیاں وغیرہ منگوا کر دیں۔گویا