خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 230

خطبات مسرور جلد 14 230 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 پر " آپ نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہو جائے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتاہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں " اور یہی عمومی طور پر فتویٰ ہے" کیونکہ وہ عام سنت سے مختلف ہیں اور جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔" الفضل مورخہ 24 جنوری 1942 ، صفحہ 1 جلد 20 شماره 21) پس اگر جمعہ پڑھا جارہا ہے تو پھر جمعہ اور عصر جمع ہونے کی صورت میں بھی دور کعت سنت جو جمعہ سے پہلے پڑھی جاتی ہیں وہ پڑھنی چاہئیں۔انسانی زندگی میں خوشی کے مواقع ذاتی بھی آتے ہیں، جماعتی بھی آتے ہیں اور ملکی بھی آتے ہیں اور خوشی کے موقعوں پر ان کا اظہار بھی ہوتا ہے۔لیکن بعض لوگ اس میں افراط اور تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں یا خوشی کے اظہار پر بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے یا مذہب کے حوالے سے یا کسی اور نام سے ظاہری اظہار کو بالکل ہی گناہ سمجھا جاتا ہے۔اسلام دونوں صورتوں کی نفی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو اس زمانے میں ہمیں اسلامی تعلیم کے مطابق میانہ روی کے راستوں پر چلانے آئے آپ نے ہمیں ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں، دینی معاملات میں بھی اور دنیاوی معاملات میں بھی رہنمائی فرمائی۔نماز کا تو میں ذکر کر آیا ہوں۔اب ایک ظاہری دنیاوی خوشی کے موقع پر کس طرح اظہار ہونا چاہئے اس بارے میں آپ علیہ السلام نے کیا ر ہنمائی فرمائی اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل کو ہمارے سامنے رکھا ہے میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے چراغاں ثابت ہے۔یعنی جب کوئی خاص موقع ہو تو اس پر چراغاں کیا جاتا ہے اور اس چراغاں کے بیان کرنے کی وجہ یہ بنی کہ ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی پر یا کسی اور موقع پر لوگوں نے چراغاں کیا تو اس پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی پر بھی چراغاں کیا گیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے چراغاں ثابت ہے۔آپ نے دو بار، ملکہ وکٹوریہ اور غالباً شاہ ایڈورڈ کی جو بلیوں پر چراغاں کرایا یا شاید دونوں جو بلیاں ملکہ وکٹوریہ کی ہی تھیں اور مجھے خوب یاد ہے کہ دونوں مواقع پر چراغاں کیا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں چونکہ بچپن میں ایسی باتیں اچھی لگتی ہیں اس لئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسجد مبارک کے کناروں پر چراغ جلائے گئے اور بنولے ختم ہوئے۔اس زمانے میں بنولے جلائے جاتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی بھیجا کہ جاکر اور لائے۔ان میں تیل ہوتا ہے وہ تیل پھر کافی دیر تک جلتا رہتا ہے۔