خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 229
خطبات مسرور جلد 14 229 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 فقہی مسائل یکجا کئے ہیں اور بڑے اچھے انداز میں جمع اور تدوین کئے ہیں۔بہر حال و قتافوقتا مجھے بھی موقع ملا تو یہ مسائل بیان کرتار ہوں گا۔جمعہ کی نماز کے ساتھ اگر عصر کی نماز جمع کی جائے تو پھر جمعہ کی نماز سے پہلے سنتیں پڑھنی چاہئیں۔اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔" حضرت مصلح موعود شفر میں تھے تو وہاں سوال کیا گیا کہ "ابھی جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر و عصر جمع ہوں تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی۔لیکن " آپ فرماتے ہیں کہ " اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے " یعنی حضرت مصلح موعودؓ کے۔" میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں۔یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں یہ بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے قبل جو سنتیں ہیں وہ پڑھا کرتے تھے۔میں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ نماز ظہر کی پہلی سنتوں سے مختلف ہیں۔ان کو دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔سفر میں جمعہ کی نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور چھوڑنا بھی جائز ہے۔یعنی اگر انسان سفر میں ہو تو جمعہ کی نماز بھی پڑھ سکتا ہے اور چھوڑ بھی سکتا ہے اور چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ نماز چھوڑ دی بلکہ ظہر کی نماز پڑھے۔آپ فرماتے ہیں کہ "میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر میں پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ کے موقع پر گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے" اور وہاں مصروفیت تھی۔" آپ نے فرمایا کہ آج جمعہ نہیں ہو گا کیونکہ ہم سفر پر ہیں۔ایک صاحب جن کی طبیعت میں بے تکلفی ہے وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ سنا ہے حضور نے فرمایا ہے آج جمعہ نہیں ہو گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول یوں تو ان دنوں گورداسپور میں ہی تھے مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے تھے تو ان صاحب نے خیال کیا کہ شاید جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اس لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں۔" وہ جمعہ پڑھایا کرتے تھے " اس لئے کہا کہ حضور مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں آتا ہو گا مگر ہم تو سفر پر ہیں " اس لئے آج ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں۔" ان صاحب نے کہا کہ حضور مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور میں نے بہت دفعہ پڑھایا بھی ہے۔" اس