خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد 14 228 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 پڑے گی۔تو مقامی طور پہ جہاں بھی جارہے ہیں، مرکز ہے یا کہیں بھی امام نماز پڑھارہا ہے اور وہ وہاں کا رہنے والا امام ہے تو بہر حال وہ پوری نماز پڑھائے گا اور مسافر بھی اس کے پیچھے پوری نماز پڑھے گا۔فرمایا کہ حکام کا دورہ سفر نہیں ہو تا۔جو لوگ دوروں پر جاتے ہیں، افسران ہیں اُن کا سفر ، سفر نہیں ہوتا۔وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔خواہ مخواہ سفر کا تو کوئی وجو د ہی نہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحه 311) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے صحابہ کی بعض دفعہ مسائل کے بارے میں کس طرح اصلاح فرما دیا کرتے تھے، اس بارے میں قاضی امیر حسین صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں شروع میں اس بات کا قائل تھا کہ سفر میں قصر نماز عام حالات میں جائز نہیں بلکہ صرف جنگ کی حالت میں فتنہ کے خوف سے جائز ہے اور اس معاملے میں حضرت خلیفہ اول کے ساتھ بہت بحث کیا کرتا تھا۔قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گورداسپور میں مقدمہ تھا ایک دفعہ میں بھی وہاں گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وہاں مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ المسیح الاول اور مولوی عبد الکریم صاحب " بھی تھے۔مگر ظہر کی نماز کا وقت آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ آپ نماز پڑھائیں۔یعنی قاضی صاحب کو کہا۔کہتے ہیں کہ میں نے دل میں پختہ ارادہ کیا کہ آج مجھے موقع ملا ہے۔میں قصر نہیں کروں گا بلکہ پوری پڑھوں گا تو اس مسئلہ کا کچھ فیصلہ بھی ہو جائے گا۔جب پڑھ لوں گا تو آپ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فتویٰ فرمائیں گے۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ فیصلہ کر کے اللہ اکبر کہنے کے لئے ابھی ہاتھ اٹھائے ہی تھے اور اس نیت کے ساتھ اٹھائے تھے کہ قصر نہیں کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے پیچھے دائیں طرف کھڑے تھے۔آپ فورا قدم بڑھا کر آگے آئے اور میرے کان کے پاس منہ کر کے فرمایا۔قاضی صاحب ! دو ہی پڑھیں گے ناں؟ تو میں نے عرض کیا حضور دو ہی پڑھوں گا۔قاضی صاحب کہتے ہیں بس اس وقت سے ہمارا مسئلہ حل ہو گیا اور میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد اول صفحہ 24-25 روایت نمبر 33) تو اس طرح صحابہ کا عمل تھا۔کس طرح شرح صدر کے ساتھ فوری طور پر فیصلے ختم کر دیا کرتے تھے۔ضمنا یہ بھی بتادوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف مواقع پر فقہی مسائل بیان فرمائے ہوئے ہیں۔یہ نہیں کہ ہر مسئلے کو آپ علماء کی طرف پھیر دیا کرتے تھے ، خود بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ان تمام مختلف موقعوں پر، مختلف مجالس میں آپ نے جو فقہی مسائل بیان فرمائے ہیں ان کو اب نظارت اشاعت پاکستان نے بڑی محنت بعض علماء کے ذریعہ سے یکجا کیا ہے جن میں جامعہ کے فقہ کے پروفیسر ز اور طلباء بھی شامل ہیں۔یہ کتاب "فقه المسيح" کے نام سے یہاں چھپ گئی ہے اور احباب جماعت کو بھی بہت سارے جو مختلف مسائل ہیں ان سے آگاہی کے لئے یہ کتاب لینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جزا دے جنہوں نے یہ تمام باتیں یا ایسے