خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 227
خطبات مسرور جلد 14 227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 کے دل میں خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں۔لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے، اپنا سامان اٹھا کر چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ شریعت کی بناء دقت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھوو ہی سفر ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحه 211) تو یہ بات اس سے واضح ہو جاتی ہے کہ سفر وہ ہے جو آپ سفر کی نیت سے سفر کریں۔گزشتہ دنوں میں یہاں ایک مسجد کے افتتاح، غالباً لیسٹر (Leicester) کی مسجد کے افتتاح کے لئے گیا تھا۔وہاں میں نے عشاء کی نماز پوری پڑھائی۔اس پر بعض لوگوں کو سوال پیدا ہوا کہ قصر نہیں کروائی گئی۔اس وقت میرے ذہن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی ارشاد تھا کہ گٹھڑی اٹھا کر سفر کی نیت سے جب سفر کیا جاتا ہے تو وہ سفر ہے اور کیونکہ اس قسم کا سفر نہیں تھا اور اسی وقت میں نے واپس آ جانا تھا اسی لئے میں نے قصر نہیں کی تھی۔پھر إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کو بھی سامنے رکھیں۔اگر یہ سامنے ہو تو نہ ہی انسان زیادہ دقتیں اپنے اوپر ڈالتا ہے، نہ ضرورت سے زیادہ سہولت کی تلاش کرتا ہے بلکہ مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔اس کو مزید کھولتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ہاں۔۔۔اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سفر کے لئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں ہے بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اسی کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہو۔دیکھو یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں ہے۔ایسے موقع پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہئے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتوی دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرو۔اسْتَفْتِ قَلْبَكَ کہ اپنے دل سے فتویٰ حاصل کرو پر عمل چاہئے۔پھر فرمایا کہ ہزار فتویٰ ہو پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شئے ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد دہم صفحہ 99-100) پس نیت اور اپنے دل کا فتویٰ بھی بعض موقع پر لے لینا چاہئے۔نیت نیک ہونی چاہئے اور اس نیت نیک کے ساتھ دل سے فتویٰ لیا جائے۔کسی نے سوال کیا کہ جو شخص یہاں مرکز میں آتا ہے وہ قصر کرے یا نہ ؟ یہ سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا گیا اور اب بھی بعض لوگ کرتے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مرکز میں جانے پہ قصر نہیں ہے۔قادیان یار بوہ جب جاتے تھے یا یہاں بعض لوگ آتے ہیں۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے لئے قصر جائز ہے۔میری دانست میں جس سفر میں عازم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری نماز پڑھنی