خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 226
خطبات مسرور جلد 14 226 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 مسئلے کا جدید اصلاحات سے تعلق نہ ہوتا تو آپ فرما دیتے کہ فلاں مولوی صاحب سے پوچھ لیں۔اور اگر وہ مولوی صاحب مجلس میں ہی بیٹھے ہوئے ہوتے تو ان سے فرماتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کس طرح ہے۔مگر بعض دفعہ ایسا بھی ہو تا کہ جب آپ کہتے کہ فلاں مولوی صاحب سے یہ مسئلہ دریافت کر لو تو ساتھ ہی آپ یہ بھی فرماتے کہ ہماری فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ مسئلہ یوں ہونا چاہئے۔اور پھر فرماتے کہ ہم نے تجربہ کیا ہے کہ باوجود اس کے کوئی مسئلہ ہمیں معلوم نہ ہو تو اس کے متعلق جو آواز ہماری فطرت سے اٹھے بعد میں وہ مسئلہ اسی رنگ میں حدیث اور سنت سے ثابت ہو تا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ چیز ہے جو تنویر کہلاتی ہے۔تو تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں جو خیالات بھی پیدا ہوں وہ بھی درست ہوں۔جس طرح ایک تندرستی تو یہ ہوتی ہے کہ انسان کہے کہ میں اس وقت تندرست ہوں اور ایک تندرستی یہ ہوتی ہے کہ انسان آگے بھی تندرست رہے۔تو تنویر وہ فکر کی درستی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ جو خیالات بھی پیدا ہوں درست ہی ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ روحانی ترقی کے لئے تنویر فکر ضروری ہوتی ہے۔اسی طرح روحانی ترقی کے لئے تقویٰ و طہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو تنویر کے معنی دماغ کی نسبت سے ہیں وہی تقویٰ کے معنی دل کی نسبت سے ہیں۔لوگ عام طور پر نیکی اور تقویٰ کو ایک چیز سمجھتے ہیں حالانکہ نیکی وہ نیک کام ہے جو ہم کر چکے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے اندر آئندہ جو جذبات بھی پیدا ہوں وہ نیک ہوں۔تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ فکر ، سوچ اور غور جن کا دماغ سے تعلق ہے، یہ تنویر ہے اور جذبات کا نیکی پر ہمیشہ قائم رہنا تقویٰ ہے۔اس کا معاملہ دل سے ہے۔جب بھی کسی انسان کو تنویر افکار اور تقویٰ قلب حاصل ہو جائے تو وہ پھر بدی کے حملے سے محفوظ رہتا ہے اور جب بدی کے حملے محفوظ رہے تو پھر ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے فضل کے نیچے آجاتا ہے۔(ماخوذ از الفضل 9 مارچ 1938 صفحہ 2 جلد 26 شماره 55) جیسا کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عام معاملات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض سوالات کرنے والوں کو سلسلہ کے دوسرے علماء کی طرف بھیج دیا کرتے تھے لیکن بہت سے سوالات ہیں جو بظاہر بہت چھوٹے ہیں اس میں آپ سلسلہ کے علماء کی بھی اصلاح فرمایا کرتے تھے۔مثلاً سفروں میں نماز کے قصر کرنے کا معاملہ ہے۔اس سوال پر کہ کس کو سفر سمجھا جائے اور قصر نماز کے حکم پر عمل کیا جائے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میر امذ ہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے، (مشکلیں اپنے اوپر نہ ڈالے)۔عرف میں جسے سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین میل ہی ہو اس میں قصر اور سفر کے مسائل پر عمل کرے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنیات۔فرمایا کہ بعض دفعہ ہم دو دو تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی