خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 225

خطبات مسرور جلد 14 225 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2016ء بمطابق 22 شہادت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ یہ مضمون بیان فرمارہے تھے کہ انسان کے لئے دو چیزوں کی صفائی بہت ضروری ہے جن میں سے ایک سوچ اور فکر ہے اور دوسری لطیف جذبات، نیکی کے جذبات ہیں اور انسان کے گہرے جذبات یعنی جذبات کی حس نہ کہ عارضی جذبے جو قلوب کی صفائی سے پیدا ہوتے ہیں۔یعنی مستقل رہنے والے نیک اور پاکیزہ جذبے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل مکمل طور پر صاف ہو۔اور افکار کی صفائی، یعنی خیال، سوچ اور غور کا ہمیشہ صاف رہنا جسے عربی میں تنویر کہتے ہیں، دماغ کی صفائی سے حاصل ہوتی ہے۔تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسان کے اندر ایسا نور پید اہو جائے کہ ہمیشہ صحیح خیال پیدا ہو۔تنویر کوشش کر کے پاک خیال پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ ایسا ملکہ پیدا ہو جائے کہ ہمیشہ صحیح خیالات پیدا ہوتے رہیں۔کبھی کوئی غلط قسم کے خیالات آئیں ہی نہ۔اور ظاہر ہے یہ باتیں مسلسل کوشش اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پید اہوتی ہیں۔بہر حال اس بارے میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے خودسنا ہے۔بعض دفعہ جب آپ سے کوئی فقہی مسئلہ پوچھا جاتا تو چونکہ یہ مسائل زیادہ تر انہی لوگوں کو یاد ہوتے ہیں جو ہر وقت اسی کام میں لگے رہتے ہیں۔بسا اوقات آپ فرمایا کرتے کہ جاؤ مولوی نور الدین صاحب سے پوچھ لو یا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا نام لیتے کہ ان سے پوچھ لو یا مولوی سید احسن صاحب کا نام لے کر فرماتے کہ ان سے پوچھ لو یا کسی اور مولوی کا نام لے لیتے۔اور بعض دفعہ جب آپ دیکھتے کہ اس مسئلے کا حل کسی ایسے امر سے متعلق ہے جہاں بحیثیت مامور آپ کے لئے دنیا کی رہنمائی کرنا ضروری ہے تو آپ خود وہ مسئلہ بتا دیتے۔مگر جب کسی