خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page xxiv
خطبات مسرور جلد 14 خط نمبر خلاصه / عنوان XXII خلاصه خطبات تاریخ مقام 52 جماعت احمدیہ کی مخالفت اور افراد جماعت پر مخالفین جماعت کی طرف سے 23 دسمبر بیت الفتوح لندن کئے جانے والے مظالم کوئی نئی چیز نہیں اور نہ ہی انبیاء کی جماعتوں کی مخالفت کوئی نئی بات ہے۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اب ہم احمدیوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے اور اب ہمیں سختی کا جواب سختی سے دینا چاہئے۔کتنا عرصہ ہم تکلیفیں برداشت کریں گے۔بعض ایسے نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مطالبات منوانے کے لئے اور اپنی آزادی کے لئے دنیاوی طریق اختیار کرنے چاہئیں۔ہم نے تو اس تعلیم پر عمل کرنا ہے اور اس ہدایت پر چلنا ہے جو حضرت مسیح موعود نے ہمیں دی ہے۔ہم نے گالیوں کا جواب نہ گالی سے دینا ہے ، نہ فساد کا جواب فساد پیدا کر کے دینا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر دینا ہے۔ملک میں فساد کرنا ہماری تعلیم نہیں ہے۔پس ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ڈر کو پکڑیں اور دعاؤں کی انتہا کر دیں۔نامساعد حالات میں اگر ہم زمانے کے امام کی بتائی ہوئی نصائح اور ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تو ہم اس نور سے دُور چلے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اطاعت کی وجہ سے ہمیں ملنا ہے۔پس ہمیں پہلے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔مکرم ملک خالد جاوید صاحب کا ذکر خیر 53 نئے سال کے آغاز پر جو یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے دنیا والے کیا کچھ نہیں 30 دسمبر بیت الفتوح لندن کرتے۔ایک مومن کی شان تو یہ ہے کہ نہ صرف ان لغویات سے بچے اور بیزاری کا اظہار کرے بلکہ اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی میں ایک سال آیا اور گزر گیا۔اگر کمزوریاں رہ گئی ہیں اور ہمارا جائزہ ہمیں تسلی نہیں دلا رہا تو ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہمارا آنے والا سال گزشتہ سال کی طرح روحانی کمزوری دکھانے والا سال نہ ہو۔بلکہ ہمارا ہر قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اٹھنے والا قدم ہو۔ہمارا ہر دن اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے والا دن ہو۔ہمارے دن اور رات حضرت مسیح موعود سے عہد بیعت نبھانے کی طرف لے جانے والے ہوں۔قرآن مجید، احادیث نبویہ اور حضرت اقدس مسیح موعود کے ارشادات کے حوالہ سے ان اعلیٰ معیاروں کا تذکرہ جن پر ہمیں اپنے آپ کو پر کھنا چاہئے اور جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم ان پر پورا اتر رہے ہیں یا نہیں؟ پاکستان کے احمدی جو اس سال قادیان کے جلسے پر نہیں جا سکے اور اس سے ان کو بڑا افسوس بھی ہے اللہ تعالیٰ ان کی تشنگی کو ختم کرنے کے بھی سامان پیدا فرمائے۔الجزائر کے احمدیوں کی مشکلات بھی دور فرمائے۔