خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد 14 223 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محمد 15 اپریل 2016 سات سو حکم ہیں کہ " ان سات سو حکموں پر عمل کرتے ہیں۔اگر یہی مقابلہ کرنا ہے تو پھر وہاں بھی مقابلہ آگیا۔یہ تو خد اتعالیٰ کا احسان ہے کہ اس کے باوجود اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ان سے صرفِ نظر کرتا ہے۔ان کی بہت ساری باتوں سے ان کی بعض دعاؤں کو سن بھی لیتا ہے۔کئی لوگ ہیں جو شاید نمازیں با قاعدہ بھی نہیں پڑھنے والے لیکن ان کی بعض دعائیں سنی گئیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تو دعاؤں کے بغیر ہی اپنی دوسری صفات کے تحت ان کی ضروریات پوری کر دیتا ہے۔پس شکوہ کرنے کا تو کوئی مقام ہی نہیں ہے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے مطابق اپنی عبادتوں اور نمازوں اور دوسرے فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہو تا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔فرمایا کہ " نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہو سکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔" فرمایا کہ "عبودیت کا ملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔"اگر صحیح کامل عبودیت حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے بہترین سکھانے والی چیز جو ہے، معلم جو ہے وہ نماز ہے۔آپ نے فرمایا کہ "میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم، نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 170) اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی نمازوں کی اس طرح حفاظت کرنے والے ہوں کہ ہماری روح اور ہمارے جذبے نماز کا حق ادا کرنے والے بن جائیں۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو محترمہ اصغری بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم سابق امیر جماعت کراچی کا ہے۔27 / مارچ کو امریکہ میں مختصر علالت کے بعد 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1943ء میں شیخ رحمت اللہ صاحب کے ساتھ ان کا نکاح ہو ا تھا۔اپنے خاوند سے پہلے 1944ء میں لاہور میں انہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر احمدیت قبول کی اور تمام عمر خلافت کے ساتھ اپنے عہد بیعت کو بڑے صدق و صفا سے نبھایا۔اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھنے کی تلقین فرماتی رہیں۔خلافت کا انتہائی احترام کرنے والی تھیں۔جب سے ایم ٹی اے شروع ہوا اس کو دیکھنا آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔نہایت صابرہ اور شاکرہ، دعا گو، تہجد گزار اور پابند صوم و صلوۃ