خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 222

خطبات مسرور جلد 14 222 خطبه جمعه فرمودہ مورفحہ 15 اپریل 2016 کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔پس خوب یادرکھو! اور پھر یا درکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 166 تا 168) بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم بہت روئے۔بہت نماز پڑھیں لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ایسے لوگوں کی بات کی نفی کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا۔" یہ بات " بالکل غلط اور باطل ہے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں رکھتے۔اگر ان میں حقیقی ایمان ہو تا تو وہ ایسا کہنے کی جرأت نہ کرتے۔جب کبھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس پر اپنا فضل کیا ہے۔یہ کسی نے بالکل سچ کہا ہے عاشق که شد که یار بحالش نظر نه کرد اے خواجہ درد نیست و گرنه طبیب ہست" یعنی وہ عاشق ہی کیا کہ محبوب جس کی طرف نظر ہی نہ کرے۔اے صاحب! درد ہی نہیں ہے وگرنہ طبیب تو موجود ہے۔یہ غلط ہے کہ تمہیں درد ہے۔"خد اتعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔صرف شرط اتنی ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔" یہ بہت بڑی بات ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔جس طرح اس نے کہا ہے اس طرح چلو۔" اور وہ سچی تبدیلی جو خدا تعالیٰ کے حضور جانے کے قابل بنا دیتی ہے اپنے اندر کر کے دکھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں عجیب در عجیب قدر تیں ہیں اور اس میں لا انتہا فضل و برکات ہیں مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کرو۔اللہ تعالیٰ سے سچی محبت پیدا کرو۔فرمایا کہ " اگر سچی محبت ہو تو خدا تعالیٰ بہت دعائیں سنتا ہے اور تائیدیں کرتا ہے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 352-353) پس اپنی حالت ہمیں ایسی بنانے کی ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری سنے۔جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سنتا نہیں ان میں سے اکثریت تو نمازیں بھی پانچ وقت پوری نہیں پڑھتی۔صرف نماز کا خیال اس وقت آتا ہے جب کوئی دنیاوی مشکل ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ضرور سنوں گا لیکن تم میرے حکموں پر چلو۔اور ہر ایک اپنا جائزہ لے لے کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ سے شکوہ ہے تو پہلے اس بات کا جواب دے کہ کتنے ہیں جو "حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم میں