خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 221
خطبات مسرور جلد 14 221 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 وہ مومن اور حنیف ہے۔" جس طرح منہ سے کہا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ بھی ہو جائے تو مسلمان بھی ہے ، وہ مومن بھی ہے اور وہ حنیف بھی ہے، موحد بھی ہے۔لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے۔" یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی طرف جھک رہا ہے یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس طرف جھک رہا ہے یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی ملا رہا ہے ، " وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔" یعنی پھر اللہ تعالیٰ اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ظاہری طور پر بھی جھکنے والا نہیں ہو تا۔فرمایا کہ "ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ایک طرف کر دی جاویں اور اس طرف جھک کر پرورش پالیس) اُدھر ہی جھکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔" درختوں کی شاخیں اگر باندھ کر ایک طرف کر دی جائیں تو ادھر ہی چلتی جاتی ہیں۔اس لئے اگر انسان بھی پھر بندوں کی طرف جھکتا ہے تو پھر بندوں کی طرف ہی چلا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ " جیسے وہ شاخیں۔"جو ایک طرف جھکتی ہیں" پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتا۔اسی طرح پر دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے ڈور ہوتی جاتی ہے۔پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اولاوہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آجاتا ہے جب کہ انقطاع گلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔"پہلے تو کوشش کر کے نماز پڑھنی پڑتی ہے اور آہستہ آہستہ جب عادت پڑ جائے، خالص ہو کے جب اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا چلا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن جاتا ہے۔فرمایا کہ "میں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں۔لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے۔پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دور پھینک دیتا ہے۔میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے۔" یہ باتیں اس طرح تو نہیں لیکن ایک دنیاوی مثال ہے وہ سمجھانے کے لئے بیان کرتا ہوں " کہ جیسے ایک مرد غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں " یہ بھی صورت ہو جاتی ہے کہ " اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا۔بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔پس فرمایا کہ عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مد مقابل ہیں۔" یعنی کہ عبودیت و دعا صرف اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئے۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ " پسند نہیں کر سکتا