خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 220

خطبات مسرور جلد 14 220 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔نہیں، بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے۔اس کی علو شان کو ملاحظہ میں لا کر اس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی اُلوہیت کے آستانہ پر گری ہوئی ہے " روح بھی گر جائے ساتھ ہی۔یعنی کہ دل بھی اسی طرح سجدے میں چلا جائے۔غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہولے اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ يُقِيمُونَ الصَّلوة کے معنی یہی ہیں۔اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکر ہو، کس طرح پیدا کی جائے " تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جاوے۔" با قاعدگی اختیار کرو نمازیں پڑھنے میں " اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔"نماز پڑھتے ہوئے وسوسے بھی آتے ہیں۔شبہات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ان سے پریشان نہ ہو بلکہ با قاعدگی سے نمازیں پڑھتے چلے جاؤ۔ابتدائی حالت میں شکوک و شبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے۔شروع شروع میں جو شکوک و شبہات ہیں، وسوسے ہیں ان سے انسان کی ایک جنگ رہتی ہے۔شیطان حملے کرتا ہے۔شیطان سے جنگ جاری رہتی ہے۔" اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا ر ہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا ہے۔آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جس کا فرمایا کہ "میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 433 تا 435) پس مستقل مزاجی شرط ہے۔اگر انسان میں پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ دوڑ کر پھر اپنے بندے کی طرف آتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی نازل ہوتے ہیں۔لیکن اس حقیقت کو بہت سے لوگ سمجھتے نہیں۔جلد بازی میں خدا تعالیٰ کے در کو چھوڑ دیتے ہیں یا اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔کم اہمیت سمجھتے ہیں اور دنیا کے داروں کی طرف بھی پھر دوڑ لگا دیتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے۔غیر اللہ سے سوال کرنامو منانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔" ایک دوسرے سے عام واسطہ پڑتا رہتا ہے۔سوال ہوتے ہیں لیکن ایسے سوال جن کا تعلق صرف خدا تعالیٰ سے ہے خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی سے امید رکھنا اور صرف اسی پر انحصار کرنا یہ چیز غلط ہے۔فرمایا کہ "جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہو کر اللہ تعالی ہی سے سوال نہ کرے اور اس سے نہ مانگے ، سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی گلوں کو چلاتا ہے۔" بہت سے پرزوں کو چلاتا ہے " پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اسی انجن کی طاقت عظمی کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی اُلوہیت کا قائل ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو إِنِّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (الانعام:80) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہو تو لاریب وہ مسلم ہے،