خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد 14 219 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 کسی کی تصدیق کر کے ہی تعریف کرتا ہے۔فرمایا کہ " اس الحمد للہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ سچے طور پر الحمد للہ اسی وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔" تمام قسم کی جو تعریفیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔"جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی تو یہ روحانی قیام ہے۔"جب دل میں یہ بات پیدا ہو جائے گی کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔وہی سب تعریفوں کے قابل ہے اور اسی کی تعریف کرنی چاہئے اور اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا نہیں جس کی تعریف کی جائے تو یہ صرف ہاتھ باندھ کر کھڑ اہونا، قیام نہیں بلکہ یہ روحانی قیام ہو جائے گا۔پھر " کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور پھر سمجھا جاتا ہے کہ وہ کھڑا ہے۔حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔" یہ اس کی حالت ہے جو دلی حالت ہے اس کے مطابق کھڑا ہو گیا۔" پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّي العظیم کہتا ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔پس سُبحان ربی العظیم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا کھایا۔" زبان نے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار کیا، اس کی پاکیزگی بیان کی اور اس کے ساتھ ہی انسان رکوع میں چلا گیا، جھک گیا۔" یہ اس قول کے ساتھ حال دکھایا۔" یعنی وہ بات منہ سے نکلی اور ساتھ ہی جب حالت طاری ہو گئی تو وہ جھکنے کی تھی رکوع کی تھی۔" پھر تیسرا قول ہے سُبحَانَ رَبِّي الأعلى اعلى افْعَلُ تفضيل ہے۔" یعنی فضیلت دینے کی عملی شکل ہے یہ سجدے کی حالت ہے۔مطلب ہے یہ فضیلت کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔" یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے " جب اللہ تعالیٰ کی فضیلت بیان کرنے کا، اس کی پاکیزگی بیان کرنے کا اور بڑائی بیان کرنے کا یہ اعلیٰ ترین اظہار ہو تو پھر یہ اس چیز کو چاہتی ہے کہ سجدہ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کے حضور بالکل جھک جایا جائے۔" اس لئے اس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرنا ہے۔" اب ظاہری تصویر اس حالت کی یہ ہو گی کہ انسان سجدے میں گر جائے۔" اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کرلی۔" یعنی جب اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور اس کا اعلیٰ ہونا اور اس کی سب پر فضیلت کا دل سے اقرار کیا تو ساتھ ہی زمین پر سجدہ میں ماتھا ٹکا دیا۔یہ اس کا اختیار ہے۔یہ جو حالت ہے اس کا اظہار ہے۔فرمایا کہ "اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں۔ایک تصویر اس کے آگے پیش کی گئی۔ہر ایک قسم کا قیام بھی کیا گیا ہے۔زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہو گئی۔تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی۔وہ کیا ہے ؟ وہ قلب ہے۔" دل ہے۔" اس کے لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو۔اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ در حقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے اور روح بھی کھڑ ا ہو ا حمد کرتا ہے۔جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے۔" یعنی کہ دل سے۔اللہ تعالیٰ تو دل کی حالت جانتا ہے اس کو پتالگ رہا ہے کہ جسم کے ساتھ روح بھی کھڑی حمد کر رہی ہے یا جھک رہی ہے یا سجدہ کر رہی ہے " اور جب سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِیم کہتا ہے تو