خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 218
خطبات مسرور جلد 14 218 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 سچائی کے ساتھ اور دل لگا کر اور روح کی گہرائی سے نماز نہیں پڑھتے۔"وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ان کی روح مردہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا، الصَّلوة کا لفظ نہیں رکھا باوجو یکہ معنی وہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔وہ نماز یقینا یقیناً برائیوں کو دور کرتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔" ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 162 تا 164) پھر نماز کی مختلف حالتوں کی حکمت اور جو اثر ان کا ہم پہ ہونا چاہئے ، اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے"۔یعنی اپنی ایسی کیفیت بھی پیدا ہو، ایسی حالت پیدا ہو جو نماز کی حالت ہونی چاہئے اور دوسرے یہ بھی احساس ہو کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے اس سے باتیں کر رہا ہے۔فرمایا کہ " بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔" یعنی تصویری حالت پیدا ہوتی ہے۔ایسی شکل پید اہوتی ہے جس کو تصویری شکل دی جاتی ہے۔فرمایا " ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتا ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے۔ایسا ہی صلوۃ میں منشائے الہی کی تصویر ہے۔" نمازیں جو ہیں، اس کی جو مختلف حالتیں ہیں اس میں اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتا ہے اس کا ایک تصویری نمونہ قائم کیا گیا ہے۔فرمایا کہ " نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضاء وجوارح حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے۔" نماز میں جو ہم منہ سے پڑھتے ہیں، ہماری جو حرکتیں ہیں ان کا اظہار بھی ان الفاظ کے ساتھ ہونا چاہئے۔فرمایا " جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید و تسبیح کرتا ہے اس کا نام قیام رکھا ہے۔اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمد و ثناء کے مناسب حال قیام ہی ہے "۔جب انسان کھڑا ہو، تسبیح و تحمید کر رہاہو، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر رہا ہو تو کھڑا ہو کے کرتا ہے۔فرمایا کہ دیکھو " بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔تو ادھر ظاہری طور پر قیام رکھا ہے اور اُدھر زبان سے حمد و ثنا بھی رکھی ہے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو"۔جب سامنے کھڑا ہو اور سورۃ فاتحہ پڑھ رہا ہو اور حمد و ثنا کر رہا ہو تو روحانی طور پر بھی یہ قیام نظر آنا چاہئے ، دل پہ اثر ہونا چاہئے۔فرمایا کہ "حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔جو شخص مُصدّق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو وہ ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے۔" جھوٹی تعریفیں تو نہیں ہو تیں جب کسی کی تعریف کی جاتی ہے۔اگر حقیقی سچا انسان ہے تو