خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 217

خطبات مسرور جلد 14 217 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 مانگنی چاہئے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے۔" فرمایا کہ کھانے کا، پھلوں کا، باقی چیزوں کا زبان میں مزا آتا ہے ناں اسی طرح اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کا بھی مزا چکھا دے۔فرمایا کہ " کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔دیکھو! اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یادرہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکر وہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت باعتبار اس کے مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔"خوبصورتی بھی یاد رہتی ہے، بد صورتی بھی یاد رہتی ہے۔"ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے۔وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے۔پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔" فرمایا کہ "میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشے باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیالے پیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔" یہ جو نصیحت ہے نشے باز کا بھی جو یہ نمونہ ہے اس سے بھی ایک عقلمند انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ "کیا فائدہ اٹھائے" یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے۔" مزا آتا ہے یا نہیں آتا۔اس کوشش میں ہو کہ مجھے مزا آئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرے اور باقاعدگی اختیار کرے، پڑھتا جائے۔" یہاں تک کہ اس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سرور کا حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو۔" ایک کرب پیدا ہو، ایک قلق پیدا ہو ، اس کی وجہ سے دعا ہو۔فرمایا کہ " تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے۔" فرمایا کہ "ان الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود: 115) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے" یہ دعا ہو۔فرمایا کہ " یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود: 115 ) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہیں یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔" یہ بھی دنیا میں نظر آتا ہے کہ بظاہر بڑی نمازیں بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن بدیاں کرتے ہیں۔فرمایا " اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔"