خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 216

خطبات مسرور جلد 14 216 خطبه جمعه فرمودہ مور محہ 15 اپریل 2016 تعالیٰ کی علت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لئے ایک تعلق عورت مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لئے مقصود بالذات ہو گیا ہے۔" بعض لوگ دنیا دار صرف یہی سمجھتے ہیں کہ یہی ہمارا مقصد ہے۔فرمایا کہ " اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالا تر اور بلند ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ، ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادت الہی سے لذت نہیں پاسکتا۔" ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 159-160) اگر ایک مریض ایک اچھی غذا اپنے مرض کی وجہ سے بیماری کی وجہ سے منہ کڑوا ہونے کی وجہ سے اس کو پسند نہیں آتی اس کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانا خراب ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مریض ہے۔اسی طرح جو نماز اور عبادت سے حظ نہیں اٹھاتا اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمازوں میں حفظ نہیں ہے یا اللہ تعالیٰ نے لطف نہیں رکھا۔رکھا ہے لیکن انسان کی اپنی طبیعت بیماری، بد ذوقی اس سے لطف نہیں اٹھاتی۔پس ہمیں ایسی عبادتوں کی تلاش کرنی چاہئے جس میں لذت و سرور ہو ، نہ کہ صرف ایک بوجھ سمجھ کر گلے سے اتارا جائے۔جب ایسی صورت ہو گی تو پھر جیسا کہ میں نے کہا بعض لوگ لمبی راتوں میں تو فجر کی نماز پہ آجاتے ہیں۔اب چھوٹی راتیں ہوں تو فجر کی نماز پہ آنا چھوڑ دیتے ہیں۔ان کی توجہ پھر اس طرف رہے گی تا کہ سرور حاصل ہو اور باقی نمازوں کی ادائیگی کا بھی خیال رہے گا۔پھر لذت و سرور کے مضمون کو مزید بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سست اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت و سرور ، اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے کہ ان کو اس کا پتا نہیں۔" پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولی حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہو تا ہے کہ کیوں ان کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا۔اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے۔گویا ان کے دل دکھتے ہیں۔" یعنی اذان کی آواز سنی تو سننا بھی نہیں چاہتے کہ اوہو اب تو نماز پہ جانا پڑے گا۔یا توجہ ہی نہیں دیتے۔" یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا