خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 215

خطبات مسرور جلد 14 215 خطبه جمعه فرموده مورفحہ 15 اپریل 2016 کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔فرمایا: " مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر ر سم کا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہئے وہ مزا نہیں آتا۔دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو"۔فرمایا کہ " جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے۔" بعض دفعہ منہ بد مزہ ہو جاتا ہے بیماری کی وجہ سے۔" اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اس کے لئے لذت اور سرور نہ ہو۔" ایک طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے پیدا ہی عبادت کے لئے کیا ہے پھر اس میں کوئی لذت بھی نہیں رکھی۔فرمایا کہ " لذت اور سرور تو ہے مگر اس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔" اس سرور کو کوئی حاصل کرنے والا بھی تو ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الداريات : 57) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے۔ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھا ہو۔اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔" ہر کام میں اللہ تعالیٰ نے لذت و سرور رکھا ہے اور روز مرہ کے جو کام ہیں ان سے اس کا پتا چلتا ہے، مشاہدے میں باتیں آتی ہیں۔پھر فرمایا کہ " مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء" جو بھی کھانے پینے والی چیزیں ہیں " انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا ہے ؟ بڑے مزیدار کھانے پکے ہوں تو بڑا مزہ آتا ہے۔"کیا اس ذائقہ ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات۔حیوانات ہوں یا انسان حظ نہیں پاتا ؟ " کھانے کا مزا بھی لیتا ہے اور خوبصورتی کا مزا بھی۔خوبصورت چیز دیکھ کے آنکھوں کے ذریعہ سے اس کا لطف اٹھاتا ہے۔" کیا دل خوش کن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے ؟ اللہ تعالیٰ نے کان رکھے ہیں۔اب کانوں میں سریلی آوازیں پہنچیں تو اس سے دل خوش ہوتا ہے۔" پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں۔" ان ساری چیزوں میں تو لذت ہے۔ان سے تو سرور ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں لیکن عبادت میں اگر لذت نہیں ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔یہ ساری باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یقیناً عبادت میں بھی اللہ تعالیٰ نے لذت رکھی ہے۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے اب اس میں زبر دستی نہیں کی بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہو تا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔فرمایا۔۔خدا