خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 214
خطبات مسرور جلد 14 214 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 اجازت دے دیا کرتے ہیں۔" جہاں انسان نوکری کرتا ہے ، ملازمت کرتا ہے اگر ان افسروں پر اچھا اثر ہو اور ان سے اجازت لی جائے نمازوں کی تو نماز پڑھنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔فرمایا " نیز اعلیٰ حکام کی طرف سے ماتحت افسروں کو اس بارہ میں خاص ہدایات ملی ہوئی ہوتی ہیں۔" بعض جگہ ہدایات ہوتی بھی ہیں۔فرمایا کہ "ترک نماز کے لئے ایسے بیجا عذر بجز اپنے نفس کی کمزوری کے اور کوئی نہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم و زیادتی نہ کرو۔اپنے فرائض منصبی نہایت دیانتداری سے بجالاؤ۔" ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 265) پھر صرف نمازیں ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر آپ ہم سے توقع رکھتے ہیں اور اس بارے میں نوافل اور تہجد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اس زندگی کے گل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا؟ اگر سارے وقت، ہر سانس، ہر لمحہ انسان نے دنیا داری کے کمانے میں صرف کر دیا تو آخرت کے لئے کیا جمع کیا۔فرمایا کہ " تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔درمیانی نمازوں میں یہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔" فرمایا کہ " رازق اللہ تعالیٰ ہے۔نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ظہر و عصر کی کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں ( اور مورد عتاب حکام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے۔' (ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 6) آخر دنیاوی ملازمتوں میں، دنیاوی کاموں میں بھی لوگ بعض دفعہ سزا پاتے ہیں اور تکلیف اٹھاتے ہیں تو نمازیں پڑھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اگر تھوڑی سی تکلیف اٹھالی تو یہ تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔پس ایک مومن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔اب راتیں چھوٹی آرہی ہیں۔نہ چھوٹی راتوں کی وجہ سے نماز قضاء ہو۔اور نہ ہی چھوٹی راتیں نماز ادا کرنے سے روکیں اور نہ دنیاوی کاموں کی مصروفیات اس کے رستے میں روک بنیں۔پس اس لحاظ سے ہمیں ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ہم میں سے بہت سے نماز ایک فرض سمجھ کر تو ادا کرتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کو صحیح طور پر نہیں جانتے۔اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: " نماز کیا ہے ؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔" مجبوری سے دے رہے ہیں، ادا کر رہے ہیں گویا کہ ٹیکس لگا ہوا ہے۔"نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خد اتعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔اس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا، تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہے بلکہ اس میں انسان