خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 213

خطبات مسرور جلد 14 213 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016 اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا؟۔" دنیا دار اس بات کی بحث کرتے ہیں کہ بہت سارے اصول ہیں ان پر عمل کرنا چاہئے۔صحت کے بارے میں جو دنیاوی اصول ہیں اگر وہ ہوں مثلاً یہ کہ اِن اِن چیزوں پر عمل کرنا ہے اگر اس پر عمل نہیں کرو گے تو صحت نہیں ہو گی۔وہ تقویٰ اور طہارت کس طرح قائم رہ سکتی ہے اور صرف تقویٰ قائم رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض وقت ادویات بے کار رہ جاتی ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آسکتے۔نہ دوا کام آسکتی ہے ، نہ طبیب حاذق۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا امر ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے۔" ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 263) پس اللہ تعالیٰ کا فضل اصل چیز ہے۔یہ خیال غلط ہے کہ صحت ہے تو سب کچھ ہے یا فلاں فلاں کام کرنے سے صحت قائم رہے گی یا بیمار ہوں گا تو فلاں دوائی لینے سے صحت ہو جائے گی۔یہ سب چیزیں جو ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم اگر نہیں ہو گا تو سب بیکار ہیں۔پس جس کے حکم سے یہ سب چیزیں چل رہی ہیں اس کے آگے ہمیں جھکنے کی ضرورت ہے۔اس کی عبادت کی ضرورت ہے۔اس سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔پس نمازیں جہاں مقصد پیدائش کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہیں وہاں ہمیں آفات اور مشکلات سے بھی بچاتی ہیں کیونکہ بہت سارے کام ایسے ہیں جو بظاہر نا ممکن ہوتے ہیں لیکن اللہ سے تعلق ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کے وہ ممکن بن جاتے ہیں۔پس جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " اصل بات یہی ہے کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ویرانہ کو آبادی اور آبادی کو ویرانہ بنا دیتا ہے۔شہر بابل کے ساتھ کیا کیا؟ جس جگہ انسان کا منصوبہ تھا کہ آبادی ہو وہاں مشیت ایزدی سے ویرانہ بن گیا اور الوؤں کا مسکن ہو گیا۔اور جس جگہ انسان چاہتا تھا کہ ویرانہ ہو وہ دنیا بھر کے لوگوں کا مرجمع ہو گیا۔" یعنی مکہ۔خانہ کعبہ۔" پس خوب یا در کھو کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوا اور تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ گویائی زندگی ہے۔استغفار کی کثرت کرو۔جن لوگوں کو کثرتِ اشغال دنیا کے باعث کم فرصتی ہے ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔"جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کے مشاغل ہمیں بہت ہیں۔مصروفیات بہت ہیں اور عبادتوں کی ، نمازوں کی فرصت نہیں ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔" ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائض خداوندی فوت ہو جاتے ہیں۔اس لئے مجبوری کی حالت میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کا جمع کر کے پڑھ لینا جائز ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر حکام سے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کر لی جائے تو وہ