خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 212

خطبات مسرور جلد 14 212 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محہ 15 اپریل 2016 ہم عبادت کا مقصد پورا کر سکتے ہیں۔ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے جنہوں نے ہمیں عبادتوں کے صحیح طریقے سکھائے۔ہمیں حکمت سکھائی کہ کس لئے عبادتیں کرنی ضروری ہیں۔بار بار متعد د موقعوں پر اپنی جماعت کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس کی تفصیلات اور جزئیات بتائی ہیں۔اس کی حکمت اور ضرورت بتائی ہے تاکہ ہم اپنی نمازوں کی اہمیت کو سمجھیں اور اس میں حسن پیدا کر سکیں۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات اس حوالے سے پیش کروں گا۔بعض دفعہ موسم کی شدت یارا تیں چھوٹی ہونے کی وجہ سے خاص طور پر فجر کی نماز میں سستی ہو جاتی ہے۔عمومی طور پر ظہر عصر کی نمازیں لوگ یا جمع کر لیتے ہیں یا بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے صحیح طرح ادا ہی نہیں کرتے۔تو چاہے موسم کی شدت ہو ، راتوں کی نیند پوری نہ ہونا ہو، کام میں مصروفیت ہو، اس وجہ سے لوگ نمازیں یا تو چھوڑ دیتے ہیں یا پھر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بعض دفعہ کہتے ہیں کہ جی ہم نے تین نمازیں جمع کر لیں۔آجکل یہاں ان ملکوں میں بڑی تیزی سے نماز کا وقت پیچھے آرہا ہے اور اب فجر کی نماز پہ بھی نظر آتا ہے کہ ایک ڈیڑھ صف کی کمی ہونی شروع ہو گئی ہے۔بعض لوگ جو باہر سے آئے ہوئے ہیں ان کی وجہ سے کبھی کبھی تعداد زیادہ بھی ہو جاتی ہے لیکن مقامی لو گوں کو جو مساجد کے قریب رہتے ہیں یا جن کے حلقے ہیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ اپنی اپنی مساجد میں یا اپنے نماز سینٹروں میں با قاعدہ نماز کی ادائیگی کے لئے اور خاص طور پر فجر کی ادائیگی کے لئے جایا کریں۔اور صرف یہاں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں اس کے لئے کوشش ہونی چاہئے کہ مسجدوں کو آباد کریں۔خاص طور پر اگر عہد یدار اور جماعتی کارکنان، واقفین زندگی اس طرف توجہ دیں تو نمازوں کی حاضری بہت بہتر ہو سکتی ہے۔نمازوں کو با قاعدہ اور التزام سے پڑھنے کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔ایک مجلس میں آپ نے فرمایا کہ: " نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو۔بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہو تیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔انہوں نے نماز کی معافی چاہی" کہ ہماری مصروفیات ہیں، کام کی زیادتی ہے ہمیں نماز معاف کر دیں۔" آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔بعض دفعہ وہ لوگ جن کی طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابل اتباع ہے کیونکہ اگر حفظ صحت کے