خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 211
خطبات مسرور جلد 14 211 16 خطبه <mark><mark>جمع</mark></mark>ه فرمودہ مورفحہ 15 اپریل 2016 خطبہ <mark><mark>جمع</mark></mark>ہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2016ء بمطابق 15 شہادت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: قرآن <mark><mark>کر</mark></mark>یم میں <mark><mark>نماز</mark></mark>وں کی ادائیگی کی طرف کئی جگہ ت<mark><mark>وجہ</mark></mark> دلائی گئی ہے۔کہیں <mark><mark>نماز</mark></mark>وں کی حفاظت کا حکم ہے۔کہیں اس میں باقاعدگی اختیار <mark><mark>کر</mark></mark>نے کا حکم ہے۔کہیں اس کی وقت پر ادائیگی کا حکم ہے اور پھر اس کے لئے اوقات بھی بتا دیئے کہ <mark><mark>نماز</mark></mark> کی ادائیگی کے لئے فلاں فلاں اوقات ہیں جن پر مومن کو عمل <mark><mark>کر</mark></mark>نا چاہئے ، اس کی پابندی <mark><mark>کر</mark></mark>نی چاہئے۔غرض کہ <mark><mark>نماز</mark></mark>وں کی ادائیگی اور اس کی فضیلت کے بارے میں بار بار خد اتعالیٰ نے ایک مومن کو تلقین فرمائی ہے اور سب سے بڑھ <mark><mark>کر</mark></mark> یہ فرمایا کہ انسانی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذّاریات: 57) کہ جن و انس کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے لیکن انسان اس مقصد کو پہچانتا نہیں اور اس سے دُور ہٹا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : خد اتعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت <mark><mark>کر</mark></mark>و۔مگر جو <mark><mark>لوگ</mark></mark> اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ <mark><mark>کر</mark></mark> حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 182) پس یہ غرض ہے جو ایک ایمان کا دعویٰ <mark><mark>کر</mark></mark>نے والے کو اپنی تمام تر ت<mark><mark>وجہ</mark></mark> سے پوری <mark><mark>کر</mark></mark>نے کی کوشش <mark><mark>کر</mark></mark>نی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث بنتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل <mark><mark>کر</mark></mark>تے رہیں۔اور عبادت کی غرض کس طرح پوری ہوتی ہے۔اس کے لئے اسلام نے ہمیں پانچ وقت کی <mark><mark>نماز</mark></mark>وں کی ادا ئیگی کا حکم دیا ہے۔ایک روایت ایک حدیث میں ہے کہ <mark><mark>نماز</mark></mark> عبادت کا مغز ہے۔پس اس مغز کو حاصل <mark><mark>کر</mark></mark> کے ہی