خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 209
خطبات مسرور جلد 14 209 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے پڑداد الکرم قاضی فیروز دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن مکرم قاضی خیر الدین صاحب کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے گوئی آزاد کشمیر سے مکرم محبوب عالم صاحب کے ساتھ قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔ان کے ہمراہ شہید مرحوم کے پڑنا نا مکرم بہادر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی دستی بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔فیروز الدین صاحب کا خاندان گوئی میں امام مسجد چلا آرہا تھا اور علاقہ میں نمایاں حیثیت کا حامل تھا۔مکرم فیروز الدین صاحب کو بیعت کے بعد اپنے خاندان کی طرف سے شدید مخالفانہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔بائیکاٹ اور جائیداد سے محرومی کے باوجود آپ احمدیت پر قائم رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا مخلص خاندان تھا۔قاضی فیروز الدین صاحب کو دمہ کی بڑی تکلیف تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کی درخواست کی۔حضور نے فرمایا اللہ شفا دے گا۔اس دعا کی برکت سے آپ کا شدید دمہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور آپ نے 80 سال سے زائد عمر پائی۔شہید مرحوم کے والد عبد الغنی صاحب فیملی کے ہمراہ فروری 2013ء میں کشمیر سے ہجرت کر کے ربوہ میں شفٹ ہو گئے تھے اور یہیں رہائش اختیار کی تھی۔شہید کی پیدائش ندھیری آزاد کشمیر کی ہے جہاں وہ 4 / مئی 1995ء کو پیدا ہوئے۔میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ڈیڑھ سال قبل فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوئے۔ابھی ٹریٹنگ مکمل کی تھی اور پاسنگ آؤٹ پریڈ مکمل ہونے کے بعد آجکل دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن ہے اس میں گوادر سیکٹر بلوچستان میں ڈیوٹی پر متعین تھے۔دو اور تین اپریل کی درمیانی شب یہ شہادت کا واقعہ پیش آیا۔شہادت کے بعد شہید مرحوم کی میت براستہ کراچی، لاہور اور پھر ربوہ لائی گئی جہاں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین عمل میں آئی۔شہید مرحوم نظام وصیت میں شامل تھے۔اس کے علاوہ بیشمار خوبیوں کے حامل تھے۔ملنساری، مہمان نوازی اور ہمدردی کا عنصر نمایاں تھا۔ہر ایک کی مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔نمازوں کے پابند تھے۔خلافت سے والہانہ لگاؤ تھا۔پوسٹنگ کے بعد بھی جب دور دراز علاقوں میں ہوتے تھے تو براہ راست فون کے اوپر خطبہ سنتے تھے۔شہادت سے دوروز قبل اپنے تمام تر چندہ جات بھی ادا کر دیئے۔ان کی آواز بھی بڑی اچھی تھی۔ملازمت کے دوران وہاں ایک فنکشن میں غیر احمدیوں کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک منظوم کلام بڑی خوش الحانی سے انہوں نے سنایا۔بہت سے غیر از جماعت وہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے بڑی داد دی اور ان سے یہ پوچھنے لگے کہ اس قدر خوبصورت منظوم کلام کس کا ہے۔ہم نے تو اس سے قبل یہ کبھی نہیں سنا۔ہمدردی خلق کی صفت بھی ان میں بڑی نمایاں تھی۔ملازمت کی ابتدا میں ایک دفعہ ان کو چار ماہ کے