خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 208

خطبات مسرور جلد 14 208 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 ہیں کہ یہاں جادو ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اس جماعت میں داخل ہوتے ہیں ان کو ماریں پڑتی ہیں۔گالیاں دی جاتی ہیں۔بے عزت کیا جاتا ہے۔ان کو مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔پھر بھی یہ فدائی رہتے ہیں اور احمدیت کو نہیں چھوڑتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مار پیٹ، گالی گلوچ اور نقصانات کی وجہ سے ڈر جانا چاہئے مگر ان پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہو تا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 496 تا498) اس لئے یقینا کوئی جادو ہوتا ہے کہ یہ اس طرح اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان جھوٹے مولویوں سے بھی اُمت کو بچائے اور لوگوں کو حق پہچانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز کے بعد میں دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر ہے جو مکرمہ سکینہ ناہید صاحبہ بنت مکرم محمد دین صاحب مرحوم آف جموں کشمیر کا ہے۔اور یہ مکرم شیخ محمد شریف صاحب مرحوم کی اہلیہ ہیں۔3 ر اپریل کو 90 سال کی عمر میں یہاں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرحومہ کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد صاحب کے ذریعہ آئی تھی۔مرحومہ نے کشمیر میں مخالفت کے باوجود 16 سال کی عمر میں بیعت کی توفیق پائی۔شادی کے بعد پٹھانکوٹ مقیم ہوئیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور حضرت ام المومنین جب ڈلہوزی تشریف لے جاتے تو آپ کو ان کی مہمان نوازی کا موقع ملتا رہا۔پاکستان بننے پر اپنے شوہر کے ساتھ بدوملی شفٹ ہو گئیں۔یہاں کئی سال تک انہیں صدر لجنہ کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔1974ء میں مخالفین نے آپ کا گھر لوٹ کر جلا دیا لیکن آپ نے بڑے حوصلہ اور صبر سے اس وقت کو گزارا۔پھر یہاں یو کے میں یہ شفٹ ہو گئیں۔بڑی محبت سے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق پائی۔نظام جماعت اور خلافت سے بہت عقیدت کا تعلق تھا۔باوجود بیماری کے اور بڑھاپے کے با قاعدہ مجھے وقتا فوقتا ملنے آتی تھیں اور ان میں بڑا ہی اخلاص تھا۔بہت نیک، تہجد گزار، نماز روزہ کی پابند بزرگ خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں اپنے پیچھے تین بیٹیاں اور تین بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔دو سر اجنازہ مکرم شوکت غنی صاحب شہید کا ہے جو کہ قاضی عبد الغنی صاحب کے بیٹے ہیں۔ندھیری آزاد کشمیر کے رہنے والے تھے۔آجکل ربوہ میں آباد ہیں۔یہ پاک فوج کے تحت بطور سپاہی گوادر بلوچستان کے علاقہ پسنی میں آپریشن ضرب عضب میں حصہ لے رہے تھے۔13 اپریل 2016ء کو دہشت گردوں کی اچانک فائرنگ سے 21 سال کی عمر میں وطن پر قربان ہو گئے اور شہادت کار تبہ پایا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مولوی الزام لگاتے ہیں کہ احمدی وطن کے دشمن ہیں۔اب شہادتیں پیش کرنے والے اور قربانیاں دینے والے احمد ی ہی ہیں۔