خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 207
خطبات مسرور جلد 14 207 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 مگر میرے ساتھی کو پتا نہ تھا اس نے وہ حلوہ کھا لیا اور میں کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے کھسک گیا۔مولوی نورالدین صاحب کو یہ پتانہ لگ سکا کہ میں نے حلوہ نہیں کھایا۔ایسا میں نے داؤ چلایا۔تھوڑی دیر کے بعد میرا وہ ساتھی جس نے حلوہ کھالیا تھا کہنے لگا کہ میرے دل کو تو ایسی کشش ہو رہی ہے کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں گویا اس پر حلوے کا اثر ہو گیا۔مگر میں نے تو کھایا ہی نہیں تھا۔مولوی صاحب فرمانے لگے اس لئے مجھ پر ماحول کا کوئی اثر نہیں ہوا۔تھوڑی دیر ہوئی تھی تو مرزا صاحب نے اپنی فٹن تیار کرائی اس میں وہ خود بھی بیٹھے اور مولوی نور الدین صاحب کو بھی بٹھایا۔مجھے بھی ساتھ بٹھا لیا۔پھر مولوی صاحب جھوٹ بولتے ہیں کہنے لگے کہ مرزا صاحب مجھ سے باتیں کرنے لگے۔میں بھی تجربہ کرنے کے لئے سر ہلاتا تھا۔ہاں ہاں کرتا گیا۔انہوں نے سمجھا یہ مان لے گا۔اس نے حلوہ کھایا ہوا ہے اس لئے یہ ضرور مان لے گا کیونکہ حلوہ پہ جادو کیا ہو اتھا۔مولوی صاحب فرمانے لگے پہلے تو انہوں نے کہا کہ میں نبی ہوں۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر ہوں نعوذ باللہ اور پھر کہا کہ میں خدا ہوں نعوذ باللہ۔یہ باتیں سن کر میں نے کہا اسْتَغْفِرُ الله۔یہ سب جھوٹ ہے۔مولوی صاحب نے فرمایا اس پر مرزا صاحب نے مولوی نور الدین سے حیرت کے ساتھ پوچھا کہ کیا اسے حلوہ نہیں کھلایا تھا؟ اس پر جادو ہی نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کھلایا تو تھا۔تو پھر جادو نہیں ہوا۔بڑی حیرت کی بات ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ بھی بعض دفعہ موقع پر ہی ان کے جھوٹ کھول دیتا ہے۔چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔مولوی صاحب کی اسی مجلس میں ایک غیر احمدی وکیل بھی بیٹھے ہوئے تھے لیکن شریف النفس تھے۔غیر احمدی تھے جو کسی زمانے میں یہاں حضرت خلیفہ اول کے پاس علاج کے لئے آئے تھے۔مولوی صاحب کی یہ بات سن کر وہ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں تو مولویوں سے پہلے ہی بد ظن تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ لوگ بہت جھوٹے ہوتے ہیں لیکن آج میں نے سمجھا کہ ان سے زیادہ جھوٹا اور کوئی ہوتا ہی نہیں۔وکیل صاحب کہنے لگے کہ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں احمدی نہیں ہوں۔وکیل صاحب نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں احمدی نہیں ہوں مگر میں علاج کے لئے خود وہاں ہو کر آیا ہوں اور وہاں رہا ہوں۔مولوی نے جتنی بھی باتیں کی ہیں یہ سب غلط ہیں۔تفصیل فٹن تو کجا وہاں تو کوئی ٹانگہ بھی نہیں ہے اور اس زمانے میں لگے ہوتے تھے۔اب یہ مولوی صاحب تو بیان کر رہے ہیں ناں کہ یہ فٹن آکے کھڑی ہوئی اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے اور خلیفہ اول کو اس میں بٹھایا اور ساتھ مجھے بٹھا لیا۔فٹن کا کوئی تصور ہی نہیں تھا وہاں قادیان میں اس وقت۔ٹانگہ بھی نہیں ہو تا تھا اور پھر خدا تعالیٰ کی یہ بھی عجیب قدرت ہے کہ فٹن تو آج تک یہاں نہیں ہے حضرت مصلح موعودؓ جب بیان کر رہے ہیں اس وقت تک وہاں فٹن کا کوئی تصور نہیں تھا تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے