خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 206

خطبات مسرور جلد 14 206 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 جس کی تعریف سوائے بھلا مانس ہونے کے اور ہے ہی نہیں۔نہ کوئی کام نہ کوئی اور چیز صرف بھلا مانس ہے۔کل کو اگر کوئی میری لڑکی کو ہی اٹھا کے لے جائے تو پھر وہ اپنی بھلا مانسی میں چپ کر کے بیٹھا رہے گا۔تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں صرف بھلے مانسی ہوتی ہے۔فرمایا کہ غیرت اور دین کا جوش نہیں پایا جاتادین کے معاملے میں بھی ایسے ہوتے ہیں۔بڑے شریف ہیں، بڑے بھلا مانس ہیں۔دین کی نہ غیرت ہوتی ہے نہ دین کے متعلق کوئی جوش پایا جاتا ہے اور بوجہ نیک نیت ہونے کے مومن تو ضرور کہلاتے ہیں مگر ان کی بھلا مانسی خود ان کے لئے اور جماعت کے لئے بھی مضر پڑا کرتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود۔جلد 18 صفحہ 206) اس لئے بہر حال غیرت دکھانی چاہئے۔پس ایسے لوگ جو بعض دفعہ نظام جماعت پر اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں اور اس قسم کے جو بھلے مانس لوگ ہوتے ہیں وہ ان اعتراض کرنے والوں کی مجلسوں میں بیٹھے ہوتے ہیں تو وہ بہر حال غلط کام کرتے ہیں۔صرف بھلے مانسی یہاں کوئی چیز نہیں ہے۔ایسی مجلسوں میں بیٹھے رہنا بے غیرتی بن جاتی ہے۔کم از کم اتنی غیرت ضرور دکھانی چاہئے کہ جہاں بھی ایسے اعتراض ہو رہے ہوں اس مجلس سے اٹھ جایا جائے اور اگر ایسی باتیں کرنے والا مستقل فتنہ پھیلانے والا ہو تو پھر نظام کو بتانا چاہئے اور نظام جماعت کو خلیفہ وقت کے علم میں یہ باتیں لانی چاہئیں تاکہ اس کے تدارک کے طور پر جو بھی اقدام کرنے ہوں کئے جائیں۔اب ایک واقعہ غیر از جماعت مولویوں کا بیان کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کس طرح لوگوں کے دلوں میں بغض اور کینہ بھرنے کی کوشش کرتے تھے ، ورغلاتے تھے۔کس طرح جھوٹ بولتے تھے اور اب بھی بولتے ہیں اور آپ پے کیسے کیسے الزام لگائے جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ساحر کہتے تھے یہ لوگ جادو گر کہتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دوست نے سنایا کہ فیروز پور کے علاقے میں ایک مولوی تقریر کر رہا تھا کہ احمدیوں کی کتابیں بالکل نہیں پڑھنی چاہئیں۔غیر احمدی مولوی اپنے لوگوں کو بتارہا تھا کہ احمدیوں کی کتابیں بالکل نہیں پڑھنی چاہئیں اور قادیان میں ہر گز نہیں جانا چاہئے اور اس کذاب نے لوگوں کو اپنا ایک من گھڑت واقعہ بھی اپنی بات کی تائید میں سنا دیا۔یہ تقریر کرتے ہوئے اب وہ اپنی بات کو کس طرح وزن دے تو اس نے یہ واقعہ آپ ہی گھڑ کے سنا دیا۔کہنے لگا کہ ایک دفعہ میں قادیان گیا میرے ساتھ ایک رئیس بھی تھا۔ہم قادیان گئے۔ہم مہمان خانے میں جا کے ٹھہر گئے اور کہا کہ مرزا صاحب سے ملنا ہے۔تھوڑی دیر میں مولوی نور الدین صاحب آگئے اور بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے۔اس کے تھوڑی دیر کے بعد ہمارے لئے ایک شخص حلوہ لایا اور مولوی نورالدین صاحب نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کے لئے تیار کرایا گیا ہے۔مولوی صاحب کہنے لگے میں تو جانتا تھا اس لئے سمجھ گیا کہ اس حلوے پر جادو کیا گیا ہے۔اس لئے میں نے تو اسے ہاتھ تک نہ لگایا۔