خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 205
خطبات مسرور جلد 14 205 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 تمہارے سامنے آئے۔اب خدا تعالیٰ کی محبت کا ذکر شروع ہو گیا کہ اس کی محبت کس طرح ہو۔خدا تعالیٰ تمہارے سامنے آئے اور تم آنکھوں پر ہاتھ رکھ لو اور پھر کہو کہ خدا تعالیٰ کی محبت ہو جائے بغیر اُسے دیکھے وہ محبت ہو کیسے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر ہے کہ: دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی یعنی کچھ تو ہو۔اگر محبوب خود سامنے نہیں آتا تو اس کی آواز تو سنائی دے۔اس کے حسن کی کوئی نشانی تو نظر آئے۔یہ تصویر ہے خدا تعالیٰ کی۔خدا تعالیٰ کی تصویر کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔رب ہے ، رحمان ہے، رحیم ہے، مالک یوم الدین ہے، ستار ہے، قدوس ہے، موسمن ہے، مہیمن ہے، سلام ہے، جبار ہے اور قہار ہے اور دوسری صفات الہیہ۔یہ نقشے ہیں جو ذہن میں کھینچے جاتے ہیں۔جب متواتر ان صفات کو ہم اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور ان کے معنوں کو ترجمہ کر کے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں تو کوئی صفت خدا تعالیٰ کا کان بن جاتی ہے۔کوئی صفت آنکھ بن جاتی ہے۔کوئی صفت ہاتھ بن جاتی ہے اور کوئی صفت دھڑ بن جاتی ہے اور یہ سب مل کر ایک مکمل تصویر خد اتعالیٰ کی بن جاتی ہے۔(ماخوذ از الفضل 18 جولائی 1951ء صفحہ 5 جلد 5/39 نمبر 166) پس اللہ تعالیٰ سے محبت کے لئے ان صفات کا تصور اور مستقل اپنے سامنے رکھنا حقیقی محبت الہی کو حاصل کرنے والا بناتا ہے اور تبھی انسان پھر اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک حقیقی مومن کو دین کے لئے غیرت اور جوش دکھانا چاہئے۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے میں نے بار ہاسنا ہے اور سینکڑوں صحابہ ابھی ہم میں ایسے زندہ ہیں جنہوں نے سنا ہو گا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی طبیعت کی افتاد کی وجہ سے یا باوجود اپنی نیک نیتی اور نیک ارادوں کے کوئی صحیح طریق اختیار نہیں کر سکتیں۔آپ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص تھا اس نے کسی دوست سے کہا کہ میری لڑکی کے لئے کوئی رشتہ تلاش کرو۔کچھ روز کے بعد ان کا دوست آیا اور کہا کہ میں نے موزوں رشتہ تلاش کر لیا ہے۔اس نے پوچھا کہ لڑکے کی کیا تعریف ہے۔اس کا بیان کرو۔وہ کہنے لگا لڑکا بڑا ہی شریف ہے اور بھلا مانس ہے۔اس نے کہا کوئی اور حالات اس کے بیان کرو۔اس نے جواب دیا بس جی اور حالات کیا ہیں۔بے انتہا بھلا مانس ہے۔پھر اس نے کہا کوئی اور بات اس کی بتاؤ صرف بھلا مانسی تو کوئی چیز نہیں۔اس نے جواب دیا کہ اور کیا بتاؤں۔بس کہہ جو دیا کہ وہ انتہا درجہ کا بھلا مانس ہے۔اس پر لڑکی والے نے کہا کہ میں اس سے رشتہ نہیں کر سکتا