خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 204
خطبات مسرور جلد 14 204 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 اور یہی بات ہے جو میں نے اس مائی سے کہی ہے لڑکے کی ماں سے کہی ہے۔ایک عورت آئی تھی کہ کیونکہ لڑکی راضی تھی اس لئے میرے بیٹے نے نکاح کر لیا تو کیا عذاب آگیا۔آپ نے فرمایا میں نے اسے کہا دیکھو تمہارے بیٹے کو رشتہ مل رہا ہے اس لئے تم کہتی ہو جب لڑکی راضی ہے تو کسی ولی کی رضامندی کی ضرورت کی کیا ضرورت ہے۔لیکن تمہاری بھی لڑکیاں ہیں۔اگر وہ اب بیا ہی جاچکی ہیں تو ان کی بھی لڑکیاں ہوں گی۔کیا تم پسند کرتی ہو کہ ان میں سے کوئی لڑکی اس طرح نکل کر کسی غیر مرد کے ساتھ چلی جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 175-176) پس جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے نہ ہی ماں باپ کو اتنی سختی بلا وجہ کرنی چاہئے کہ بغیر کسی جائز وجہ کے جھوٹی غیرت کے نام پر رشتہ نہ کریں اور قتل تک ظالمانہ فعل کرنے والے بن جائیں۔اور نہ ہی لڑکیوں کو اسلام اجازت دیتا ہے کہ خود ہی گھر سے جاکر عدالتوں میں یا کسی مولوی کے پاس جا کے شادی کر لیں یا نکاح پڑھوا لیں۔اگر بعض مجبوری کے حالات ہیں تو لڑکیاں بھی خلیفہ وقت کو لکھ سکتی ہیں جو حالات کے مطابق پھر جو بھی معروف فیصلہ ہو گا وہ کرے گا۔پس اگر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اصول کو سامنے رکھیں گی اور لڑکے بھی سامنے رکھیں گے تو خدا تعالیٰ بھی پھر فضل فرمائے گا۔ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعودؓ یہ مضمون بیان فرمارہے تھے کہ ذکر الہی کے لئے اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے، اس سے محبت کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے لا کر غور کیا جائے اور ان صفات کے ذریعہ سے پھر ذاتی تعلق بڑھایا جائے۔اللہ تعالیٰ سے محبت کا صحیح ادراک تبھی حاصل ہوتا ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کہ دنیاوی ظاہری تعلق اور محبت پیدا کرنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ یا تو جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی قربت ہو یا کم از کم اس کا کوئی نقشہ ، اس کی کوئی تصویر سامنے ہو تا کہ پسند اور تعلق کا اظہار ہو۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ محبت کے لئے ضروری ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہو اور یا اس کی تصویر سامنے ہو۔یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آج کے زمانے میں رشتہ والے کہتے ہیں جی تصویریں بھیجیں۔فرمایا کہ مثلاً اسلام نے یہ کہا ہے کہ جب تم شادی کرو تو شکل دیکھ لو اور جہاں شکل دیکھنی مشکل ہو وہاں تصویر آجکل کے زمانے میں، اُس زمانے میں بھی دیکھی جاسکتی تھی، اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مثلاً میری جب شادی ہوئی میری عمر چھوٹی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈاکٹر رشید الدین صاحب کو لکھا کہ لڑکی کی تصویر بھیج دیں۔انہوں نے تصویر بھیج دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصویر مجھے دے دی۔میں نے جب کہا کہ مجھے یہ لڑکی پسند ہے تب آپ نے میری شادی وہاں کی۔پس بغیر دیکھنے کے محبت ہو تو کیسے۔یہ تو ایسی ہی چیز ہے کہ خدا تعالیٰ