خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 203

خطبات مسرور جلد 14 203 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 بیاہنے کے کچھ عرصے بعد ہی اکثر کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جاتا ہے اور جو بڑے مسائل پید اہور ہے ہوتے ہیں ان کا بھی پتا لگ جاتا ہے۔اب بھی کئی لوگ اور لڑکیاں خود لکھتی ہیں یا ان کے ماں باپ کہ یہ فیصلہ کیا جس کا ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں۔دین سے بھی دوری ہو گئی ہے۔اور بعض سسرالوں نے یا خاوندوں نے تو ماں باپ سے اور رشتہ داروں سے ملنے جلنے کے لئے پابندی لگادی ہے۔لیکن وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی انا میں آکر بعض دفعہ اچھے بھلے احمدی رشتوں کو ٹھکرادیتے ہیں جبکہ لڑکیاں بھی راضی ہوتی ہیں لڑکے بھی راضی ہوتے ہیں۔بلکہ بعض جگہ میں نے بھی کہا کہ رشتہ کر لولیکن آنا کی وجہ سے انکار کیا۔بہر حال اگر ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کیا تو اب میری بات کا انکار کرنا تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے۔لیکن پھر ایسوں کے انجام بھی بڑے بھیانک ہو جاتے ہیں۔جرمنی میں ایک ایسا ہی واقعہ ہوا تھا کہ ماں باپ نے بیٹی کی مرضی کے مطابق شادی نہیں کی یا اس کے اصرار پر بیٹی کو ہی قتل کر دیا اور اب جیل میں پڑے ہوئے ہیں۔پس اگر احمدی لڑکا اور لڑکی شادی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ماں باپ کو بھی ضد نہیں کرنی چاہیئے۔ذاتوں اور اناؤں کے چکر میں نہیں آنا چاہئے۔بیاہ شادی کے بارے میں ایک یہ مسئلہ لڑکیوں پر بھی واضح ہونا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ لڑکی کی پسند بھی رشتے میں شامل ہونی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پسند کو قائم فرمایا ہے کہ لڑکی کی مرضی شامل ہو لیکن اسلام اس بات کی پابندی بھی ضرور کرواتا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور واقعہ میں آپ اسی کی طرف سے ہیں تو ہماری شریعت یہی کہتی ہے یعنی اسلام کی شریعت یہی کہتی ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر سوائے ان مستثنیات کے جن کا استثناء خود شریعت نے رکھا ہے کوئی نکاح جائز نہیں۔اور اگر ہو گا تو وہ ناجائز ہو گا اور ادھالہ ہو گا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو سمجھائیں اور اگر نہ سمجھیں تو ان سے قطع تعلق کر لیں۔اس قسم کے واقعات بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک لڑکی نے جو جوان تھی ایک شخص سے شادی کی خواہش کی مگر اس کے باپ نے نہ مانا۔وہ دونوں قادیان کے قریب جگہ تھی ننگل چلے گئے اور وہاں جا کر کسی ملاں سے نکاح پڑھوالیا اور کہنا شروع کر دیا کہ ان کی شادی ہو گئی ہے۔پھر وہ قادیان آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معلوم ہوا تو آپ نے ان دونوں کو قادیان سے نکال دیا اور فرمایا یہ شریعت کے خلاف فعل ہے کہ محض لڑکی کی رضامندی دیکھ کر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے۔وہاں بھی لڑکی راضی تھی اور کہتی تھی کہ میں اس مرد سے شادی کروں گی لیکن چونکہ ولی کی اجازت کے بغیر انہوں نے نکاح پڑھوایا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں قادیان سے نکال دیا۔اسی طرح وہاں اس زمانے میں کوئی نکاح حضرت مصلح موعودؓ کے سامنے بھی ہوا تھا۔آپ نے فرمایا کہ یہ نکاح بھی ناجائز ہے