خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد 14 202 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 جاتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو شادیوں کے متعلق جو مشکلات پیش آتی ہیں مجھے پہلے بھی ان کا علم تھا لیکن اس نو ماہ کے عرصے میں تو بہت ہی مشکلات اور رکاوٹیں معلوم ہوئی ہیں۔یہ نوماہ کا عرصہ آپ بیان فرمارہے ہیں۔یہ تقریر آپ نے 1914ء میں اپنی خلافت کے تقریباً نو ماہ بعد جلسہ سالانہ ہوا تھا اس میں کی تھی " اور لوگوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں ہماری جماعت کو سخت تکلیف ہے۔" آج بھی یہی حال ہے۔یہ تکلیف جو ہے یہ جاری ہے اور مشکلات ہیں لیکن ان مشکلات کو ہم نے حل بھی کرنا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھے جائیں اور آپ نے یہ رجسٹر کسی شخص کی تحریک پر کھلوایا تھا۔اس نے عرض کیا تھا کہ حضور شادیوں میں سخت دقت ہوتی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ غیروں سے تعلق نہ پیدا کرو۔اپنی جماعت متفرق ہے۔اب کریں تو کیا کریں؟ ایک ایسار جسٹر ہو جس میں سب ناکتخدا لڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوں۔" یعنی ایسے لڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوں جن کے رشتے نہیں ہوئے ہوئے " تار شتوں میں آسانی ہو۔حضور سے جب کوئی درخواست کرے تو اس رجسٹر سے معلوم کر کے اس کارشتہ کروا دیا کریں کیونکہ کوئی ایسا احمدی نہیں ہے جو آپ کی بات نہ مانتا ہو۔" یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس شخص نے کہا" بعض لوگ اپنی کوئی غرض درمیان میں رکھ کر کوئی بات پیش کرتے ہیں اور ایسے لوگ آخر میں ضرور ابتلاء میں پڑتے ہیں۔"حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ اپنے مسائل تو لوگ پیش کرتے ہیں، جب کوئی بات عرض کرتے ہیں لیکن کوئی غرض اپنی ذاتی بھی ہوتی ہے اور پھر اس وجہ سے ابتلاء میں پڑ جاتے ہیں۔تو فرماتے ہیں کہ " اس شخص کی بھی نیت معلوم ہوتا ہے درست نہ تھی۔انہی دنوں میں ایک دوست کو جو نہایت مخلص اور نیک تھے شادی کی ضرورت ہوئی۔اسی شخص کی جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ رجسٹر بنایا جائے " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ تجویز پیش کی تھی ناں کہ رجسٹر بنایا جائے۔اس کی ایک لڑکی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دوست کو اس شخص کا نام بتایا کہ اس کے ہاں تحریک کروں۔یعنی جس نے تجویز پیش کی تھی اس کی لڑکی تھی۔جب ایک رشتہ آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کے گھر رشتہ بھجوا دیا۔لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذر کر کے رشتے سے انکار کر دیا اور لڑکی کہیں غیر احمدیوں میں بیاہ دی۔جب حضرت صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ آج سے میں شادیوں کے معاملے میں دخل نہیں دوں گا اور اس طرح یہ تجویز رہ گئی۔لیکن اگر اس وقت یہ بات چل جاتی تو آج احمدیوں کو وہ تکلیف نہ ہوتی جو اب ہو رہی ہے۔" ( برکات خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 209) بعض دفعہ نبی کے سامنے ایک انکار جو ہے پھر جماعت کے لئے مستقل ابتلاء بن جاتا ہے۔غیروں میں