خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد 14 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیر و اگر دوسرے غیر احمدی سے بیاہی گئی تو خاوند کی وجہ سے یقینا وہ احمدیت سے دور ہو جائے گی یا اگر دُور نہیں ہو گی تو گڑھ گڑھ کر مر جائے گی۔کیونکہ یہی ہوتا ہے کہ گھروں میں جاکے پھر اس پر سختیاں ہوتی ہیں۔" اپنے رشتہ داروں سے الگ کی جائے گی بوجہ تعصب مذہبی کے۔" اور یہ آجکل بھی اسی طرح ہوتا ہے۔" تو یہ ایک آگ ہے۔کیا وہ خود اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کو آگ میں ڈالتی ؟ مگر اس طرح ایک تھوڑے سے تعلقات کے لئے اسے دائمی آگ میں ڈال دیا۔پس اس سے بچو۔" (مستورات سے خطاب۔انوار العلوم جلد 11 صفحہ 518-519) اپنے پس اگر ہم احمدی غیروں میں رشتہ نہیں کرتے جو بڑا الزام لگایا جاتا ہے تو یہ تفرقے نہیں ہیں بلکہ اب آپ کو بچانے کی کوشش ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش ہے۔لیکن یہ خیال اسے ہی آسکتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی روح کو سمجھے اور اس میں لڑکے بھی شامل ہیں۔وہ احمدی لڑکے جو احمدی لڑکیوں کو چھوڑ کر غیروں سے شادی کرتے ہیں۔پس لڑکوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے آپ کو احمدی کہلواتے ہیں اور حقیقی احمدی سمجھتے ہیں تو پھر صرف ذاتی خواہشات کو نہ دیکھیں اور جب شادی کا وقت آئے تو احمدی لڑکیوں سے شادیاں کریں۔اپنی دنیاوی خواہشات پر اپنی اگلی نسل اور دین کو ترجیح دیں ورنہ نسلیں صرف لڑکیوں کے غیروں میں بیاہنے سے برباد نہیں ہو تیں بلکہ لڑکوں کے غیروں میں شادیاں کرنے سے بھی برباد ہوتی ہیں۔ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے کہ احمدی صرف معاشرتی دباؤ یا رشتہ داری کی وجہ سے احمدی نہ ہو بلکہ دین کو سمجھ کر احمدی بننے کی کوشش کریں۔اگر احمدی لڑکے باہر شادیاں کرتے رہیں گے تو پھر احمدی لڑکیاں کہاں بیاہی جائیں گی۔پس لڑکوں کو بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر اب بھی اس بارے میں احتیاط نہ کی گئی اور اس طرف اب بہت زیادہ رجحان ہونے لگ گیا ہے تو پھر آئندہ یہ رجحان مزید بڑھتا چلا جائے گا اور پھر نسل میں احمدیت نہیں رہے گی سوائے اس کے کہ کسی پر خاص اللہ تعالیٰ کا فضل ہو۔میں تو اکثر باہر رشتے کرنے والے لڑکوں کو بھی یہ کہتا ہوں کہ تم احمدی لوگ اگر لڑکیوں کے بھی حق ادا کرو، اگر کسی وجہ سے، مجبوری سے خو درشتہ باہر کیا ہے تو کسی نوجوان کو احمدیت میں شامل کرو اور اُسے مخلص احمدی بناؤ اور پھر اس کا احمدی لڑکی سے رشتہ کرواؤ۔اس سے تمہیں تبلیغ کی طرف بھی توجہ پید اہو گی۔اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس احساس کی وجہ سے خود بھی احمدی لڑکیوں سے شادی کرنے کی طرف توجہ پید اہو۔بہر حال لڑکیوں کی شادیوں کے مسائل ہیں اور یہ آج ہی نہیں ہمیشہ سے ہیں۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " ایک اہم مسئلہ جس پر میں آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نکاح کا سوال ہے اور اسی کے ضمن میں گفو کا سوال بھی پیدا ہو