خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 200

خطبات مسرور جلد 14 200 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 رہتی اگر زخم کو نشتر سے صاف نہ کیا جاتا۔اس پر جلن آمیز دوائی نہ چھڑ کی جاتی تو مریض کی حالت کس طرح بہتر ہو سکتی۔اس کی تو جان خطرے میں پڑ جاتی۔اس صورت میں کس طرح کوئی ڈاکٹر کو ملزم بنا سکتا ہے۔" پس ڈاکٹر اگر کسی کو کوئی تکلیف دیتا ہے تو علاج کی غرض سے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ " ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اسی تفرقے کے متعلق سوال کیا کہ " آپ نے آکے مزید تفرقہ ڈال دیا اور پہلے ہی اتنافساد پھیلا ہوا ہے تو " آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ اپنا اچھا دودھ سنبھالنے کے لئے دہی کے ساتھ ملا کر رکھتے ہیں یا علیحدہ؟" دودھ کو اگر سنبھالنا ہو تو دہی سے علیحدہ رکھتے ہیں تاکہ اس پہ کہیں چھینٹا وغیرہ نہ پڑ جائے کیونکہ دودھ اس سے خراب ہو جاتا ہے۔" ظاہر ہے کہ دہی کے ساتھ اچھا دودھ ایک منٹ بھی اچھا نہیں رہ سکتا۔پس فرستادہ جماعت کا درماندہ جماعت سے علیحدہ کیا جانا ضروری تھا۔" یہ جو فرقہ بنایا یا علیحدہ جماعت قائم کی یہ ایک فرستادے کی جماعت ہے اور اس کا اس جماعت سے علیحدہ کیا جانا ضروری تھا۔ان لوگوں سے علیحدہ کیا جانا ضروری تھا جو بگڑے ہوئے ہیں۔" جس طرح بیمار سے پر ہیز نہ ہو تو تندرست بھی ساتھ گرفتار ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ روحانی بیماروں سے فرستادہ جماعت کو علیحدہ رکھے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جنازہ، شادی، نماز وغیرہ علیحدہ ہو۔" عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمارہے تھے۔آپ فرماتے ہیں " کیونکہ اکثر عورتیں ہی اس میں اختلاف کرتی ہیں اس لئے میں عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح مریض کے ساتھ تندرست کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔یاد رکھو یہی حالت تمہاری غیر احمدیوں سے تعلق رکھنے میں ہو گی۔اکثر عورتیں کہتی ہیں کہ بہن یا بھائی کا رشتہ ہوا چھوڑا کس طرح جائے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر زلزلہ آجائے یا آگ لگ جائے تو ایک بہن بھائی کی پرواہ نہ کر کے بلکہ اس کو پیچھے دھکیل کر خود اس گرتی ہوئی چھت سے جلدی نکل بھاگنے کی کوشش کرے گی تو پھر دین کے معاملے میں کیوں یہ خیال کیا جاتا ہے ؟ دراصل یہ آرام کے وقت کے جذبات ہیں" اگر اس کو سمجھا جائے اور ایک مصیبت سمجھی جائے تو پھر ایسے خیالات نہ آئیں کہ کیوں علیحدہ کیا جائے۔ہم میں پھاڑ کیوں ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ " یہ مصیبت کے وقت نہیں ہوتا۔" کیونکہ تم اس کو سمجھتے نہیں۔ابھی دین کا ادراک حاصل نہیں ہوا اس لئے یہ آرام کے جذبات حاوی ہو رہے ہیں۔مصیبت کے جذبات ہوں تو یہ رد عمل اس طرح نہ ہو۔" اگر خدارات کو تم میں سے کسی کے پاس فرشتہ ملک الموت بھیجے جو کہے کہ حکم تو تیرے بھائی یا دوسرے عزیز کی جان نکالنے کا ہے مگر خیر میں اس کے بدلے تیری جان لیتا ہوں تو کوئی عورت بھی " اس کو قبول نہیں کرے گا اس کو قبول نہ کرے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم : 7) یعنی بچاؤ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی جانوں کو آگ سے۔اب