خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 199

خطبات مسرور جلد 14 199 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے آکر ایک جماعت بنا کر ایک فساد پیدا کر دیا اور مسلمانوں میں بقول آپ کے آپ نے ایک تہترواں فرقہ بنا دیا۔ضرورت تو اس بات کی تھی کہ تفرقے کم کئے جاتے۔یہ الٹا ایک زائد فرقہ بنا کر مزید تفرقہ ڈال دیا۔تو یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کی بعثت کے وقت یہ باتیں کہی جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہی الزام مکہ والے لگاتے تھے کہ بھائی بھائی کو جدا کر دیا۔ہمیں آپس میں پھاڑ دیا۔تفرقے پیدا کر دیئے۔دشمنیاں پیدا کر دیں۔حالانکہ فساد کی حالت تو ان میں پہلے سے تھی۔اور یہی حال آجکل کے مسلمانوں کا تھا اور اب بھی ہے کہ فساد کی حالت ان میں موجود ہے۔نبی تو اللہ تعالیٰ اس لئے بھیجتا ہے کہ فساد کی حالت کو دور کرے اور ایک ہاتھ پر جمع ہو کر یہ لوگ ایک بننے ، وحدت بننے کی کوشش کریں۔پس جو ایمان لاتے ہیں وہ امن میں آتے ہیں۔ایک وحدت بن جاتے ہیں۔فسادوں سے دور ہٹ جاتے ہیں۔اور دوسرے مخالفین جو ہیں وہ فسادوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔اب ہمارے خلاف چاہے جتنے مرضی مخالفین اکٹھے ہو کے مخالفت کرتے رہیں لیکن آپس میں پھر بھی یہ لوگ پھٹے ہوئے ہیں۔دل ان کے پھٹے ہوئے ہیں۔ایک نہیں ہیں۔آپس میں پھر سر پھول ان کی ہوتی رہتی ہے۔اور جب تک یہ امام کو نہیں مانیں گے یہ اسی طرح ہو تا رہے گا چاہے ہمیں یہ مسلمان کہیں یا غیر مسلم کہیں یا جو بھی یہ نام لیں۔لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعریف کے مطابق بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعریف کے مطابق بھی حقیقی مسلمان ہیں اور ہمیں اس نام کے کہنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔حضرت مصلح موعودؓ انہی فسادوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ " ایک دوست نے سنایا کہ ایک مرتبہ ایک اہل حدیث حنفیوں کی مسجد میں ان کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ رہا تھا۔التحیات میں اس نے انگلی اٹھائی۔" تشہد کے وقت " اس کا انگلی اٹھانا تھا کہ تمام مقتدی نمازیں توڑ کر اس پر ٹوٹ پڑے اور حرامی حرامی کہنا شروع کر دیا۔" یعنی حنفیوں کا ایک عقیدہ ہے کہ تشہد پہ انگلی نہیں اٹھاتے۔انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔نماز توڑ نا کتنا جرم ہے۔اس کی انگلی کو ہی دیکھ رہے تھے۔نماز توڑ کر اس کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور اس کو مارنا شروع کر دیا۔تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " یہ فساد حضرت مسیح موعود کے آنے سے پہلے ہی تھے۔مسیح موعود نے تو آکر اصلاح کی۔چوٹ لگانے والا فسادی ہوتا ہے۔اب یہ پوچھ رہے ہیں کہ جو کسی کو مارتا ہے وہ فسادی ہوتا ہے، چوٹ لگانے والا فسادی ہوتا ہے " یاڈاکٹر جو نشتر لے کر علاج پر آمادہ ہوتا ہے ؟" دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں جو زخم لگاتے ہیں۔ایک وہ جو کسی کو مار کر زخم لگاتا ہے۔چوٹ لگا کر زخم لگاتا ہے۔اور ایک ڈاکٹر ہے جو علاج کی غرض سے زخم لگاتا ہے۔ایک شخص کا بخار سے۔منہ کڑوا ہو۔ڈاکٹر کو نین دے۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ظالم نے منہ کڑوا کر دیا۔اگر ڈاکٹر بلغم کو نہ نکالتا تو جسم کی خرابی بڑھ جاتی۔بلغم نکال دینے پر اعتراض کیسا؟ ہڈی ٹوٹی