خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد 14 198 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 ہوتی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتی۔آپ کی تردید کبھی نہیں کرتی۔پس جب خواب ایسی ہو جو قرآن کریم یارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فتویٰ اور سنت کے خلاف ہو تو وہ بہر حال رڈ کرنے کے قابل سمجھی جائے گی کیونکہ نہ تو قرآن کریم کے خلاف کوئی خواب سچی ہو سکتی ہے اور نہ سنت کے خلاف کوئی خواب سچی ہو سکتی ہے اور نہ صحیح حدیث کے خلاف کوئی خواب سچی ہو سکتی ہے۔(ماخوذ از الفضل 25 نومبر 1958ء صفحہ 2، 3 جلد 47/12 نمبر (272) پس کسی بات کے متعلق خوابوں کو بنیاد بنانا چا ہے وہ نیکی کی بات ہی ہو اور اپنے آپ کو ایسی تکلیف میں ڈالنا جس کی طاقت نہ ہو یہ چیز غلط ہے۔نہ صرف غلط ہے بلکہ غیر صالح عمل ہے اور بعض دفعہ گناہ بن جاتا ہے۔ہاں جن کو اللہ تعالیٰ نے مامور من اللہ کے طور پر کھڑا کرنا ہو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک بالکل مختلف ہو تا ہے۔وہ عام لوگوں میں سے نہیں ہوتے۔ان کا کسی عام فرد سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔اس واقعہ سے شاید کسی کو یہ بھی خیال ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چھ ماہ کے روزے رکھے تھے تو اس کے متعلق ایک تو واضح ہو کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے نبوت کے مقام پر کھڑا کرنا تھا۔دوسرے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق کیا فرمایا ہے اور اس ضمن میں ہمیں کیا نصیحت فرمائی ہے وہ پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ " ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے ذکر کیا کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربے میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانے میں میرے پر کھلے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد پھر کشوف کا، الہامات کا ایک سلسلہ جاری کیا۔پھر آپ نے اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی ہے کہ کیا کیا ہوا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔" یہ یاد رکھنے والی بات ہے۔" لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔یاد رہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجالا نا چھوڑ دیا۔" (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 197 تا 200 حاشیہ) پس آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ مقام دینا تھا اس کی وجہ سے اجازت ہوئی۔پھر اس کے بعد کبھی اس پر آپ نے عمل نہیں کیا۔فرمایا کہ کبھی کبھی میں روزے رکھ لیتا تھا۔نیز دوسروں کو بھی، اپنے ماننے والوں کو بھی اس طرح کرنے سے آپ نے منع فرمایا۔