خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 197

خطبات مسرور جلد 14 197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 بعض دفعہ بعض لوگوں کو نیکی سر پہ سوار ہو جاتی ہے۔اس حد تک اس میں آگے بڑھ جاتے ہیں کہ غلو سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔اپنی جان کو مصیبت میں ڈال لیتے ہیں یا اپنے پر ظلم کرتے ہیں یا بعض ایسے لوگ ہیں بلکہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کو سرسری لیتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی طرف جس طرح توجہ کرنی چاہئے وہ توجہ نہیں کرتے۔پس یہ دونوں قسم کے لوگ ہیں جو افراط اور تفریط سے کام لیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے باہر نکلتے ہیں۔نیکی میں بڑھنے والوں کی بھی بعض مثالیں ہوتی ہیں۔ایک عورت کی مثال آپ نے دی جو ناجائز طور پر نیکی کے نام پر ایک کام کرنا چاہتی تھی جو اصل میں نیکی نہیں ہے کیونکہ خدا اور اس کے رسول نے اس کی اجازت نہیں دی۔اس واقعہ میں جو میں بیان کروں گا ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو بعض دفعہ اپنی خوابوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں حالانکہ ان کا وہ مقام نہیں ہوتا کہ یہ کہا جائے کہ ان کی ہر خواب سچی ہے اور اس کا کوئی مطلب ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ آج ایک عورت ہمارے ہاں آئی وہ قادیان کی پرانی عورت ہے اس کے دماغ میں کچھ نقص ہے۔کہنے لگی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور آپ نے فرمایا ہے کہ اگر تم چھ مہینے متواتر روزے رکھو تو خلیفتہ المسیح کو صحت ہو جائے گی۔حضرت مصلح موعودؓ کی بیماری کے شروع دنوں کی بات ہے۔مگر وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے جن علماء سے پوچھا انہوں نے یہی کہا ہے کہ چھ مہینے کے متواتر روزے رکھنانا جائز ہے۔پھر کہنے لگی کہ میاں بشیر احمد نے کہا ہے کہ تُو جمعرات اور پیر کے روزے رکھ لیا کر۔لیکن اس کے بعد کہنے لگی کہ میں نے پھر خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں نے تو کہا تھا کہ چھ ماہ کے متواتر روزے رکھ۔تو متواتر روزے کیوں نہیں رکھتی۔تو حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں میں نے کہا کہ تیری خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنے الہاموں کے متعلق یہ فرماتے ہیں کہ اگر میرا کوئی الہام قرآن اور سنت کے خلاف ہو تو میں اسے بلغم کی طرح پھینک دوں۔گلے سے صاف کر کے نکال کے پھینک دوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی وحی کو قرآن کریم اور سنت کے اتنا مطابق کرتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی خواب آپ کے احکام کے مطابق کرنی پڑے گی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے امت کے لوگوں کو متواتر اور لمبے عرصے کے روزوں سے منع کیا ہے۔تو اگر تمہیں کوئی خواب اس حکم کے خلاف آتی ہے یا آئی ہے تو وہ شیطانی سمجھی جائے گی۔خدائی نہیں سمجھی جائے گی۔بیشک تم یہی کہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے۔اگر خدائی خواب