خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد 14 196 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2016ء بمطابق 08 شہادت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنے چاہئیں کہ ہمارے کام ، ہمارے عمل، ہمارے فیصلے قرآن اور حدیث کے مطابق ہیں یا نہیں۔اس طرح اگر کسی معاملے کی قرآن سے اور حدیث سے وضاحت نہ ملے جس پہ انسان غور کرتا ہے تو پھر کس طرح ان کاموں کو انجام دیا جائے۔اس کے لئے یہ ہے کہ پرانے علماء جو گزرے ہیں ان کے قول اور ان کے فیصلوں کو اختیار کرنا چاہئے۔اس ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا گیا کہ ہمیں اپنے مسائل کے فیصلے کس طرح کرنے چاہئیں ؟ کہاں سے رہنمائی لینی چاہیئے ؟ تو آپ علیہ السلام نے یہی فرمایا کہ ہمارا طریق یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور جب قرآن کریم میں کوئی بات نہ ملے تو پھر اسے حدیث میں تلاش کیا جائے اور جب حدیث سے بھی کوئی بات نہ ملے تو پھر استدلال اُمت کے مطابق فیصلہ کیا جائے یا امت میں جو فیصلے ہوئے ہیں اور جو دلیلیں دی گئی ہیں اس کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔یہاں یہ بھی واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سنت حدیث سے اوپر ہے اس لئے جو باتیں سنت سے ثابت ہیں بہر حال ان پر تو عمل ہونا ہی ہے۔اس کے بعد پھر حدیث کا نمبر آتا ہے۔سنت وہی ہے جو کام ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھا دیا اور آگے صحابہ نے اس سے سیکھا۔پھر صحابہ سے تابعین نے سیکھا۔پھر تبع تابعین نے سیکھا اور پھر یہ اُمت میں جاری ہوا۔بہر حال حضرت مصلح موعود اس مضمون کو بیان فرمارہے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگیوں پر نظر رکھنی چاہئے کہ ہم وہی کام کریں جس کی ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کار سول اجازت دیتے ہیں۔