خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 194
خطبات مسرور جلد 14 194 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 اپریل 2016 پھر پہلے اپنی حالتوں کو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم کس حد تک عمل کر رہے ہیں اور پھر يُؤْمِنُوا پی پر بھی عمل نہیں ہے کیونکہ اگر دعا قبول نہیں ہوئی تو اس سے ہم خیال کرتے ہیں کہ کیونکہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی، ظاہر آپوری نہیں ہوئی اس لئے ایمان کمزور ہو گیا۔تو ایمان تو حضرت ابراہیم علیہ السلام والا چاہئے جس کا پہلے ذکر آچکا ہے کہ اپنی کمزوری کو اپنی طرف منسوب کریں اور کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں۔پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر یہ صور تحال ہو گی کہ میرا بندہ میرے سے یہ امید رکھتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ دعائیں قبول بھی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حکموں پر چلنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔ہمارے ایمانوں کو مضبوط کرے اور ہماری دعاؤں کو بھی قبولیت کا درجہ بخشے۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو سید اسد الاسلام شاہ صاحب گلاسگو کا ہے۔یہ سید نعیم شاہ صاحب کے بیٹے ہیں۔ان کے والد بھی اور لڑکے کے دادا بھی یہ پر انا خاندان ہے ، خدمت کرنے والا بھی ہے۔24 / مارچ 2016ء کو 40 سال کی عمر میں ایک شر پسند کے حملے کے نتیجہ میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔24 / مارچ کو گلاسگو میں اپنی دکان کے باہر شدید زخمی حالت میں پائے گئے تھے۔وہاں سے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔احمدی ہونے کی وجہ سے ان کو شہید کیا گیا۔اور انہوں نے جان قربان کی اور بہر حال شہادت کار تبہ پایا۔پر میں نے اور حکومتی اداروں نے بڑا افسوس اور غم کا اظہار کیا۔یہاں کی بھی حکومت کا کام ہے کہ ان شدت پسندوں کو روکے۔ورنہ اگر مولویوں کو کھلی چھوٹ دے دی تو یہ مولوی یہاں بھی اس ملک میں بھی پھر وہی فتنہ و فساد پیدا کریں گے جو باقی مسلمان ملکوں میں انہوں نے پیدا کیا ہوا ہے۔فروری 1974ء میں ربوہ میں پیدا ہوئے تھے۔ایف ایس سی کی تعلیم نصرت جہاں اکیڈمی سے انہوں نے حاصل کی۔1998ء میں یہ گلاسگو آگئے۔اپنے والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گئے۔وصیت بھی کی ہوئی تھی۔باقاعدہ چندہ بھی یہ دیتے تھے۔خدام الاحمدیہ کی رپورٹ کے مطابق خدام الاحمدیہ میں باقاعدہ شامل تھے۔اجتماعات میں شرکت کرتے تھے۔چندہ دیتے تھے۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے بھی باقاعدہ آتے تھے۔اکثر اجتماعات میں بھی انہوں نے شرکت کی ہے۔مرحوم اسد شاہ جو ہیں یہ ڈاکٹر نصیر الدین صاحب قمر پنشنر صدر انجمن احمدیہ قادیان کے داماد تھے۔کچھ عرصہ سے مختلف فیز ز (Phases) میں ان کو نفسیاتی بیماری بھی آجاتی تھی جس کی وجہ سے کچھ کڑھتے تھے۔لیکن بہر حال ریجنل امیر صاحب نے کہا ہے کہ جب میں نے ان سے ملاقات کی ہے تو آخر میں انہوں نے ہمیشہ خلافت سے تعلق کا اعلان کیا، اظہار کیا تو بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شاید جماعت چھوڑ گئے تھے لیکن نہیں۔احمد ی ہی تھے اور احمدیت کی وجہ سے شہید ہوئے اور باقاعدگی سے آخر تک پروگراموں میں، خدام الاحمدیہ کے پروگراموں